ملفوظات (جلد 5) — Page 213
ایک مومن اوردنیا دار کی موت میں فرق جس کا دل مُردہ ہو وہ خوشی کا مدار صرف دنیا کو رکھتا ہے مگر مومن کو خدا سے بڑھ کر اَور کوئی شَے پیاری نہیں ہوتی۔جس نے یہ نہیں پہچاناکہ ایمان کیا ہے اور خدا کیا ہے وہ دنیا سے کبھی آگے نکلتے ہی نہیں ہیں۔جب تک دنیا ان کے ساتھ ہے تب تک تو سب سے خوشی سے بولتے ہیں بیوی سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں مگر جس دن دنیا گئی تو سب سے ناراض ہیں۔منہ سوجا ہوا ہے ہر ایک سے لڑائی ہے گلہ ہے شکو ہ ہے حتی کہ خدا سے بھی ناراض ہیں تو پھر خدا ان سے کیسے راضی رہے وہ بھی پھر ناراض ہو جاتا ہے۔مگر بڑی بشارت مومن کو ہے۔يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر:۲۸،۲۹) اے نفس جو کہ خدا سے آرام یافتہ ہے تو اپنے ربّ کی طرف راضی خوشی واپس آ۔اس خوشی میں ایک کافر ہرگز شریک نہیں ہے۔رَاضِيَةً کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی مُرادات کوئی نہیںرکھتا کیونکہ اگر وہ دنیا سے خلافِ مُرادات جاوے تو پھر راضی تو نہ گیا اسی لیے اس کی تمام مُراد خدا ہی خدا ہوتا ہے اس کے مصداق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کہ آپ کو یہ بشارت ملی۔اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ (النصـر:۲)اور اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ:۴)بلکہ مومن کی خلافِ مرضی تو اس کی نزع (جان کنی ) بھی نہیں ہو اکرتی ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ دعا کیا کرتا تھا کہ میں طوس میں مَروں لیکن ایک دفعہ وہ ایک اَور مقام پر تھا کہ سخت بیمار ہوااور کوئی امیدزیست کی نہ رہی تواس نے وصیت کی کہ اگر میں یہاں مَر جاؤں تو مجھے یہودیوںکے قبرستان میں دفن کرنا اسی وقت سے وہ روبصحت ہو ناشروع ہو گیا حتی کہ بالکل تندرست ہو گیا۔لوگوں نے اس کی وصیت کی وجہ پوچھی تو کہا کہ مومن کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو۔اُدْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ(المؤمن:۶۱) خدا کا وعدہ ہے میری دعا تھی کہ طوس میں مَروں جب دیکھا کہ موت تو یہاں آتی ہے تو اپنے مومن ہونے پر مجھ کو شک ہوا اس لیے میں نے یہ وصیت کی کہ اہل اسلام کو دھوکا نہ دوں غرضیکہ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً صرف مومنوں کے لیے ہے۔دنیا میں بڑے بڑے مالداروں