ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 212

شام کے وقت بوجہ دوران سرحضرت اقدسؑ نے نمازِمغرب کے نوافل بیٹھ کرادا کئے۔بعد ازاں آندھی اور بارش کے آثار نمودار ہوئے اور تجویز ہوئی کہ نماز عشاء جمع کرلی جاوے چونکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طبیعت ناساز تھی اس لیے تشریف لے گئے مگر تاہم باجماعت نماز کا اس قدر آپ کو خیال تھا کہ تاکید فرمائی کہ تکبیرزور سے کہی جاوے کہ میں اندر سُن لوں اور باجماعت نماز ادا ہو جاوے۔۱ ۱۴؍ جولائی۱۹۰۳ء خدا تعالیٰ سچادوست ہے فرمایا کہ دعویٰ مومن اور مسلم ہونے کا آسان ہے مگرجو سچے طور پر خدا کا ساتھ دیوے تو خدا اس کا ساتھ دیتا ہے۔ہر ایک دل کواس قسم کی سچائی کی توفیق نہیں ملاکرتی یہ صرف کسی کسی کا دل ہوتا ہے۔دیکھا جاتا ہے کہ دوست بھی کئی قسم کے ہوتے ہیں۔بعض زن مزاج کہ وفا نہیں کرتے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ حق دوستی کو وفاداری کے ساتھ پورا ادا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ وفا دار دوست ہے اسی لیے تو وہ فرماتا ہے وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ (الطّلاق:۴) کہ جو خدا کی طرف سے پورے طور پر آگیا اور اعدا وغیرہ کسی کی پروانہ کی فَهُوَ حَسْبُهٗ تو پھر خدا تعالیٰ اس کے ساتھ پوری وفا کرتا ہے۔ایک پیشگوئی عنقریب ایسا ہوگا کہ شریر لوگ جو رعب داب رکھتے ہیں وہ کم ہوتے جاویں گے۔گذشتہ چند ایام میں سخت گرمی تھی اور آج بفضل خدا بارش ہو جانے کی وجہ سے ٹھنڈ ہو گئی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی بارش کے ہو جانے سے درخت دھوئے دھائے نظر آرہے تھے آسمان، بادل اور ہر ایک درودیوار نے بارش کی وجہ سے ایک خاص رنگ وروپ حاصل کیا تھا اس پر خدا کے برگزیدہ اور مجسم شکر انسان نے فرمایا کہ خدا کے تصر فات بھی کیسے ہیں ابھی کل کیا تھا اورآج کیا ہے۔۱البدر جلد۲نمبر۲۷مورخہ۲۴؍جولائی۱۹۰۳ء صفحہ ۲۱۰