ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 210

سے ڈرتا رہے گا اس کو اللہ ایسے طور سے رزق پہنچائے گا کہ جس طور سے معلوم بھی نہ ہوگا۔رزق کا خاص طور سے اس واسطے ذکر کیا کہ بہت سے لوگ حرام مال جمع کرتے ہیں اگر وہ خدا تعالیٰ کے حکموں پر عمل کریں اور تقویٰ سے کام لیویں تو خدا خود ان کو رزق پہنچاوے اسی طرح اللہ تعالیٰ فر ماتا ہےکہ وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ (الاعراف:۱۹۷) جس طرح پر ماں بچے کی متولّی ہوتی ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں صالحین کا متکفّل ہوتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کو ذلیل کرتا ہے اور اس کے مال میں طرح طرح کی برکتیں ڈال دیتا ہے۔انسان بعض گناہ عمداًبھی کرتا ہے اوربعض گناہ اس سے ویسے بھی سرزد ہوتے ہیں۔جتنے انسان کے عضوہیں ہر ایک عضو اپنے اپنے گناہ کرتا ہے انسان کا اختیار نہیں کہ بچے۔اللہ تعالیٰ اگر اپنے فضل سے بچاوے تو بچ سکتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے گناہ سے بچنے کے لیے یہ آیت ہے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ:۵) جو لوگ اپنے ربّ کے آگے انکسار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جاوے تو ان کا اللہ تعالیٰ خود مدد گا ر ہو جاتا ہے۔کوئی شخص عابد بہت دعا کرتا تھا کہ یا اللہ تعالیٰ مجھ کو گناہوں سے آزادی دے اس نے بہت دعا کرنے کے بعد سوچا کہ سب سے زیادہ عاجزی کیوں کر ہو۔معلوم ہوا کہ کتّے سے زیادہ عاجز کوئی نہیں تو اس نے اس کی آواز سے رونا شروع کیا کسی اَور شخص نے سمجھا کہ مسجدمیں کتّا آگیا ہے ایسا نہ ہو کہ کوئی میرا برتن پلید کردیوے تو اس نے آکر دیکھا تو عابد ہی تھا کتّا کہیں نہ دیکھا۔آخر اس نے پوچھا کہ یہاں کتّا رورہاتھا۔اس نے کہا کہ میں ہی کتّا ہوں پھر پوچھا کہ تم ایسے کیوں رو رہے تھے؟ کہا کہ خدا کو عاجزی پسند ہے اس واسطے میں نے سوچا کہ اس طرح میری عاجزی منظور ہو جاوے گی۔حضرت ابراہیمؑ نے اپنے لڑکے کے واسطے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے اسی طرح انسان کو چاہیے کہ دعا کرے بہت سے شخص ایسے ہوتے ہیں کہ کسی گناہ سے نہیں بچتے لیکن اگر ان کو کوئی شخص بے ایمان یا کچھ اَور کہہ دیوے تو بڑے جوش میں آتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم تو کوئی گناہ نہیں کرتے پھر ہم کو یہ کیوں کہتا ہے۔اس طرح انسان کو معلوم نہیں کہ کیا کیا گناہ اس سے سرزد