ملفوظات (جلد 5) — Page 209
صدہا سال گذرگئے تھے نقل کیا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ فر ماتا ہےکہ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ (البقرۃ:۱۵۶) کبھی ہم تم کو نہایت فقروفاقہ سے آزمائیں گے اور کبھی تمہارے بچے مَرجاویں گے تو جو لوگ مومن ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا ہی مال تھا ہم بھی تو اسی کے ہیں۔پس خدا تعالیٰ فر ماتا ہے کہ انہی لوگوں نے جو صبر کرتے ہیں میرے مطلب کو سمجھاہے ان پر میری بڑی رحمتیں ہیں جن کا کوئی حدوحساب نہیں تو دیکھوکہ یہ باتیں ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے غریب آدمی کے ساتھ تکبّر کے ساتھ پیش نہیں آنا چاہیے۔۱ (مجلس قبل ازعشاء) ارتدادعن الاسلام کا ذکر عبد الغفور نامی ایک شخص کے آریہ مذہب اختیار کرنے پر فرمایا کہ اس طرح کے ارتداد سے اسلام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا۔یکجائی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ آیا اسلام ترقی کر رہا ہے یا تنزّل۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت جو بعض لوگ مرتد ہو جاتے تھے تو کیا ان سے اسلام کو نقصان پہنچتا تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ میرا خیال ہے کہ یہ پہلوانجام کارا سلام کو ہی مفید پڑتا ہے اور اس طرح سے اہل اسلام کے ساتھ اختلاط کی ایک راہ کھلتی ہے۔اور جب خدا تعالیٰ نے ایک جماعت کی جماعت اسلام میں داخل کرنی ہوتی ہے تو ایسا ہوا کرتا ہے کہ اہل اسلام میں کچھ ادھر چلے جاویں۔خدا کے کام بڑے دقیق اور اسرارسے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ہر ایک کی سمجھ میں نہیں آیا کرتے۔۲ ۱۳؍جولائی۱۹۰۳ء (بعد نماز ِعصر) حضرت اقدس کا عورتوںکو وعظ وَ مَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاوَّ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(الطلاق:۳،۴) یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ ۱ البدرجلد۲نمبر۲۷ مورخہ۲۴؍جولائی۱۹۰۳ءصفحہ ۲۱۰، ۲۱۱ نیز الحکم جلد۷نمبر۲۶ مورخہ۱۷؍جولائی۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵،۱۶ ۲البدرجلد۲نمبر۲۷ مورخہ۲۴؍جولائی۱۹۰۳ءصفحہ ۲۰۹