ملفوظات (جلد 5) — Page 206
طرف سے ہے۔پھر وہ مسلمان ہوگیا۔کہتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب لڑکوں کی طرف راستہ میں دیکھا کرتے تھے تو اتنی شفقت کیا کرتے تھے کہ وہ لڑکے سمجھا کرتے کہ یہ ہمارا باپ ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فر ماتا ہے کہ جو عورتیں کسی اَور قسم کی ہوںان کودوسری عورتیں حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں اور نہ مرد ایسا کریں کیونکہ یہ دل دُکھا نے والی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ کرے گا۔یہ بہت بری خصلت ہے یہ ٹھٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت بُرا معلوم ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی ایسی بات ہو جس سے دل نہ دُکھے وہ بات جائز رکھی ہے جہاں تک ہوسکے ان باتوں سے پرہیز کرے اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ عمل والے کو میں کس طرح جز ادوں گا۔فَاَمَّا مَنْ طَغٰى وَ اٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا فَاِنَّ الْجَحِيْمَ هِيَ الْمَاْوٰى (النّٰزعٰت:۳۸تا ۴۰) جو شخص میرے حکموں کو نہیں مانے گا میں اس کوبہت بُری طرح سے جہنّم میں ڈالوں گا اور ایسا ہوگا کہ آخر جہنّم تمہاری جگہ ہو گی۔وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى (النّٰزعٰت:۴۱،۴۲) اور جوشخص میری عدالت کے تخت کے سامنے کھڑاہونے سے ڈرے گا اور خیال رکھے گا تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کاٹھکا نا جنّت میں کروں گا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى (عبس: ۲تا ۵)اس سورۃ کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کے پاس چند قریش کے بڑے بڑے آدمی بیٹھے تھے آپ ان کو نصیحت کر رہے تھے کہ ایک اندھا آگیا۔اس نے کہا کہ مجھ کو دین کے مسائل بتلا دو۔حضرت نے فرمایا کہ صبر کرو اس پر خدا نے بہت غصہ کیا آخر آپ اس کے گھر گئے اور اسے بُلا کر لائے اور چادربچھا دی اور کہا کہ تو بیٹھ اس اندھے نے کہا کہ میں آپ کی چادر پر کیسے بیٹھوں؟ آپ نے وہ چادر کیوں بچھا ئی تھی؟ اس واسطے کہ خدا کو راضی کریں۔تکبر اورشرارت بُری بات ہے ایک ذراسی بات سے ستّر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدّت سے وہاں بارش نہ ہوئی تھی ایک روزبارش ہوئی تو پتھروں پراور روڑیوں پر بھی ہوئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہو اکہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے