ملفوظات (جلد 5) — Page 203
ان میں جانا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں اور اسی طرح وہ حق العباد میں خاص خاص خدمتوں میں حصہ نہیں لے سکتے۔غریب آدمی تو ہر ایک قسم کی خدمت کے لیے تیار رہتا ہے وہ پاؤں دبا سکتا ہے پانی لا سکتا ہے کپڑے دھوسکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اگر نجاست پھینکنے کا موقع ملے تو اس میں بھی اسے دریغ نہیں ہوتا لیکن امراء ایسے کاموں میں ننگ وعار سمجھتے ہیں اور اس طرح پر اس سے بھی محروم رہتے ہیں غرض امارت بھی بہت سی نیکیوں کے حاصل کرنے سے روک دیتی ہے (الا ماشاء اللہ۔ایڈیٹر) یہی وجہ ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ مساکین پانچ سو برس اوّل جنّت میں جاویں گے۔۱ ۱۲؍ جو لائی ۰۳ ۱۹ء (بعد نماز ِعصر) خواتین کو نصائح جو کہ حضرت اقدسؑ نے ۱۲؍ جو لائی ۰۳ ۱۹ء کو اندرون خانہ بوقت بین العصر والمغرب فرمایا تھا اور دروازہ سے باہر دیوار کی اوٹ میں کھڑے ہو کرقلمبند کیا گیا۔چونکہ اکثر بچگا ن بھی عورتوں کے ہمراہ تھے جو اکثر شور کرکے سلسلہ تسامع کو توڑ دیتے تھے اس لیے جہاں تک بشریت کی استعد اد نے موقع دیا۔اس کو بلفظہ نوٹ کیا گیا ہے۔(ایڈیٹر) اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا مگر تاہم آپ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسّہ لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آوے۔عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجالا نا ہے خدا کا شکر کرنا اورخدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے۔کوئی شخص نواب تھا صبح کو نماز کے لیے نہیں اُٹھتا تھا ایک مولوی نے اسے وعظ سنایا اس پر نواب نے اپنے خادم کو کہا کہ مجھ کو صبح کو اُٹھا دینا خادم نے دو تین مرتبہ اس کو جگا یا جب ایک مرتبہ جگایا تو اس نے دوسری طرف کروٹ بدل لی۔جب دوبارہ اس طرف ہو کر جگا یا پھر اَور طرف ہو گیا جب ۱الحکم جلد۷نمبر۲۶مورخہ۱۷؍جولائی۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲