ملفوظات (جلد 5) — Page 199
نہ تھا مگر ضعف۱ کی بات ہے کہ کوئی بات بھی پوری نہ ہوئی۔اوّل اس کو بادشاہت کا وعدہ دیا تو پھر کہہ دیا کہ وہ آسمانی بادشاہت ہے۔ایلیا کی بات پیش کی تو وہ ایسی کہ خود یحییٰ نے ایلیا ہونے سے انکار کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسیح علیہ السلام کا مقابلہ پھر دیکھئے کہ مسیحؑ کی گرفتاری کے لیے آدمی آگئے۔دو گھنٹہ کے اندر ہی اندر آپ کو گرفتار کر لیا اور گرفتا ر کرنے والوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لیے کسریٰ کے سپاہی آئے تو آنحضرتؐنے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور پھر دوسرے دن صبح کو آپ ان کو جواب دیتے ہیں کہ آج تمہارا خداوند مارا گیا اور میرے خدا نے اس کے لیے شیروَیہ۲ کو اس پر مسلّط کر دیا۔اب دونوں نبیوں کا مقابلہ کرلو۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے کسریٰ ہلاک ہوگیا۔اس طرح سے لازم تھا کہ مسیح کی گرفتاری کے وقت کم از کم موٹے موٹے چھ سات آدمی مارے جاتے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدا سے خدا کا ارادہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رُعب جمایا جاوے گا۔ایک آدمی کے دو خدمت گارہوں کہ ایک تو رات دن خدمت کرتاہے اور تنخواہ بھی لیتا ہے مگر گالی گلوچ بھی کھاتا رہے اور اَور مکروہات بھی دیکھتا ہے۔ایک اَور ہے کہ بظاہر کام تو نہیں کرتا لیکن قرب اس کا بہت ہے۔ہر وقت آقا رحمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تو اِس سے اُس کے اور آقا کے اندرونی تعلقات کا پتا لگتا ہے کہ کس قدر بڑھے ہوئے ہیں یہی حال مسیحؑ کا ہے ان کی زندگی کیسی تلخی سے گزری ہے۔گالی وغیرہ آپ کھا تے رہے اورنصرت وفتح آنحضرتؐکے شامل حال ہونا صداقت کی بڑی بھاری دلیل ہے۔۳ البدر میں یہ فقرہ یوں لکھا ہے۔’’مگر قسمت کی بات ہے کہ مسیحؑ کی کوئی بات بھی پوری نہ ہوئی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ ؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۳) ۲ البدر میں ہے۔’’ تمہارا خدا وند آج رات کو مارا گیا اور میرے خدا نے اسی کے بیٹے شیروَیہ کو اس پر مسلط کردیا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ ؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۳) ۳ البدر میں ہے۔’’یہی حال مسیحؑکا ہے کہ اُن کی زندگی کیسی تلخی سے گذری ہے۔گالی وغیرہ آپ کھاتے رہے۔