ملفوظات (جلد 5) — Page 200
مسیح کی قوم یہود تو آپ کے بھائی ہی تھے۔مسیحؑ بھی تورات کو مانتے تھے مگر پھر بھی ذرا سی بات پر اس قدر مخالفت ہوئی کہ انہوں نے سولی پر چڑھایا اور ادھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں دشمن اور پھر کامیابی پر کامیابی ملی حتی کہ آپ کے خلفاء کو بھی کامیابی ہوئی۔۱ ٍ ۹؍جولائی ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) قبرِمسیح علیہ السلام بعض عیسائی اخباروں نے مسیحؑ کی قبر واقعہ کشمیر کے متعلق ظاہر کیا ہے کہ یہ قبر مسیح کی نہیں بلکہ ان کے کسی حواری کی ہے۔اس تذکرہ پر آپ نے فرمایاکہ اب تو ان لوگوں نے خود اقرارکر لیا ہے کہ اس قبر کے ساتھ مسیحؑ کا تعلق ضرور ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے کسی حواری کی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ مسیحؑ کی ہے۔اب اس قبر کے متعلق یہ تاریخی صحیح شہادت ہے کہ وہ شخص جو اس میں مدفون ہے وہ شہزادہ نبی تھا اور قریباً انیس سو برس سے مدفون ہے۔عیسائی کہتے ہیں کہ یہ شخص مسیحؑ کا حواری تھا اب ان پر ہی سوال ہوتا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مسیحؑ کا کوئی حواری شہزادہ نبی کے نام سے بھی مشہور تھا اور وہ اس طرف آیا تھا اور یہ یقیناً ثابت نہیں ہوسکتا۔پس اس صورت میں بجز اس بات کے ماننے کہ یہ مسیح علیہ السلام کی ہی قبر ہے اور کوئی چارہ نہیں۔۲ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) نشانات کی ضرورت نشانات کی ضرورت پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے ورنہ دیکھا جاتا ہے کہ اس وقت کیا ہو رہا (بقیہ حاشیہ )اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاملِ حال کس طرح تائیدات الٰہیہ رہیں۔دنیا ہو یا آخرت خدا کے فضل شامل حال ہونا صداقت کی بڑی دلیل ہے۔‘‘ (البدرجلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ ؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۳ ) ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۰ ،۱۱ ۲الحکم جلد ۷ نمبر ۲۶مورخہ ۱۷؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹