ملفوظات (جلد 5) — Page 196
۸؍ جولائی ۱۹۰۳ء (دربارِ شام ) غیر مومن کی ماتم پرسی مرزا امام الدین جو اپنے آپ کو ہدایت کنندہ قوم لال بیگیاں مشہور کرتا اور حضرت مسیح موعود کے سخت ترین دشمنوں سے تھا، ۶ ؍جولائی کو فوت ہو گیا۔چنانچہ اس کے جنازہ پر رسمی طور پر ہمارے معززو مکرم دوست سیّد محمد علی شاہ صاحب بھی چلے گئے اور جنازہ پڑھ لینے کے پیچھے آپ کو اپنے اس عمل پر تاسّف ہوا اور آپ نے ذیل کا توبہ نامہ شائع کیا جو ہم ناظرین الحکم کی دلچسپی کے لیے درج کرتے ہیں کہ مَیں بذریعہ توبہ نامہ ہذا اس اَمر کو شائع کرتا ہوں کہ میں نے سخت غلطی کی ہے اور وہ یہ کہ میں نے غلطی سے مرزا امام الدین کا جو ۶؍جولائی کو فوت ہوا ہے اور جس نے اپنی کتابوں میں ارتداد کیا ہے جنازہ پڑھا۔پس میں بذریعہ اشتہار ہذایہ توبہ نامہ شائع کرتا ہوں اور ظاہر کرتا ہوں کہ میں امام الدین اور ان لوگوں سے بیزار ہوں جو اس کے جنازہ میں شامل ہوئے اور بالآ خر میں دعائے جنازہ واپس لیتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے اپنے اس گناہ کی مغفرت چاہتا ہوں۔خاکسار محمدعلی شاہ اس پر (حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے) فرمایا کہ کوئی شخص کسی بات پر نازنہ کرے۔فطرت انسان سے الگ نہیں ہوا کرتی جس فطرت پر انسان اوّل قدم مارتا ہے پھر وہ اس سے الگ نہیں ہوتا یہ بڑے خوف کا مقام ہے حُسنِ خاتمہ کے لیے ہر ایک کو دعا کرنی چاہیے۔عمر کا اعتبار نہیں ہر شَے پر اپنے دین کو مقدم رکھو۔زمانہ ایسا آگیا ہے کہ پہلے تو خیالی طورپر اندازہ عمر کا لگایا جاتا تھا مگر اب تو یہ بھی مشکل ہے دانشمند کو چاہیے کہ ضرور موت کا انتظام کرے۔میں اتنی دیر سے اپنی برادری سے الگ ہوں میرا کسی نے کیا بگاڑ دیا۔خدا تعالیٰ کے مقابل پر کسی کو