ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 197

معبود بنانا نہیں چاہیے۔۱ ایک غیر مومن کی بیمار پُرسی اور ماتم پُرسی تو حُسن اخلاق کا نتیجہ ہے لیکن اس کے واسطے کسی شعائرِ اسلام کو بجا لا ناگناہ ہے مومن کا حق کافر۲ کو دینا نہیں چاہیے اور نہ منافقانہ ڈھنگ اختیار کرنا چاہیے۔خدا تعالیٰ کی ذات گو مخفی ہے مگر اس کے انوار ظاہر ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ مخفی نہیں۔سب نبیوں سے زیادہ کامیاب نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے کامیابی اور خوشی کی موت تمام نبیوں سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔موسیٰ بھی کامیاب ہوئے لیکن موت نے ان کو بھی سفر میں ہی آگھیرا۔دل میں تمنا ہوگی کہ اس سر زمین میں پہنچوں مگر وہ پوری نہ ہوئی۔مسیحؑ کی موت پر خیال کیا جاوے تو اس میں غائت درجہ کی ناکامی ہے۔کل ۱۲حواری تھے کسی کو بہشت کی کنجیاں ملنے کا وعدہ تھا وہ نہ ملیں۔ایک نے تیس روپیہ نقد لے کر گرفتار کروادیا۔دُوسرے نے لعنت بھیجی۔۳ اگر یہ مان بھی لیں ۴ حضرت عیسیٰ آسمان پر ہی چڑھ گئے تو بھی روتے ہی گئے ہوں گے خوشی اور کامیابی کی موت تو نصیب نہ ہوئی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں آنا اور پھر وہاں سے رخصت ہونا قطعی دلیل آپ کی نبوت پر ہے۔آئے آپ اُس وقت جبکہ زمانہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الرّوم:۴۲) کا مصداق تھا اور ضرورت ایک نبی کی تھی۔ضرورت پر آنا ۱ البدر سے۔’’ایک دانشمند کے لیے ضرور ہے کہ موت کا انتظام کرے۔خدا تو موجود ہے۔اس کے لیے بھی کچھ فکر چاہیے۔ہم اس قدر عرصہ سے اپنی برادری سے الگ ہیں۔ہمارا کسی نے کیا بگاڑ لیا جو اَور کسی کا برادری بگاڑ لے گی مَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ (الطّلاق:۴) خدا کے مقابلہ پر کسی کو معبود نہ بنانا چاہیے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۲ ) ۲ البدر میں ہے۔’’مومن کا حق غیر مومن کو نہ دینا چاہیے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۳ ) ۳ البدر میں ہے۔’’ایک نے استاد پر لعنت کی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۳ ) ۴ البدر میں ہے۔’’بفرضِ محال اگر مان لیا جاوے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰۳ )