ملفوظات (جلد 5) — Page 192
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۲ جلد پنجم والی اس وقت اس سلسلہ کو بہت سی امداد کی ضرورت ہے انسان اگر بازار جاتا ہے تو بچے کی کھیلنے وا (بقیہ حاشیہ ) جو شخص اپنی حیثیت و توفیق کے موافق اس سلسلہ کی چند پیسوں سے امداد نہیں کرتا اس سے اور کیا توقع ہو ہو سکتی سکتی ۔ ہے اور اس سلسلہ کو اس کے وجود سے کیا فائدہ؟ ایک معمولی انسان انسان بھی بھی خواہ خواہ کتنی کتنی ہی ہی شکستہ شکستہ حالت کا کیوں نہ ہو جب بازار جاتا ہے تو اپنی قدر کے موافق اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ لاتا ہے تو پھر کیا یہ سلسلہ جو اپنی عظیم الشان اغراض کے لیے اللہ تعالی نے قائم کیا ہے اس لائق بھی نہیں کہ وہ اس کے لیے چند پیسے بھی قربان کر سکے؟ دنیا میں آج کل کون سا سلسلہ ہوا ہے یا ہے جو خواہ دنیوی حیثیت سے ہے یا دینی بغیر مال چل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر ایک کام اس لیے کہ عالم اسباب میں ہے اسباب سے ہی چلا یا جاتا ہے پر کس قدر بخیل و ممسک وہ شخص ہے کہ جو ایسے عالی مقصد کی کامیابی کے لیے ادنی چیز مثل چند پیسے خرچ نہیں کر سکتا۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ الہی دین پر لوگ اپنی جانوں کو بھیڑ بکری کی طرح شار کرتے تھے مالوں کا تو کیا ذکر ، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سے زیادہ دفعہ اپنا عہ اپنا گل گھر بار شار کیا حتی کہ سوئی تک کو بھی گھر میں نہ رکھا اور ایسا ہی حضرت عمرؓ نے اپنی بساط و انشراح کے موافق اور عثمان نے اپنی طاقت و حیثیت کے موافق علی ہذا القیاس علی قدر مراتب تمام صحابہ اپنی جانوں اور مالوں سمیت اس دین الہی پر قربان کرنے کے لیے طیار ہو گئے ۔ ایک وہ ہیں کہ بیعت تو کر جاتے ہیں اور اقرار بھی کر جاتے ہیں کہ ہم دنیا پر دین کو مقدم کریں گے مگر مدد و امداد کے موقع پر اپنی جیبوں کو دبا کر پکڑ رکھتے ہیں ۔ بھلا ایسی محبت دنیا سے کوئی دینی مقصد پا سکتا ہے؟ اور کیا ایسے لوگوں کا وجود کچھ بھی نفع رساں ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ، ہرگز نہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: ۹۳) جب تک تم اپنی عزیز ترین اشیاء اللہ جل شانہ کے راہ میں خرچ نہ کرو تب تک تم نیکی کو نہیں پاسکتے ۔ اس وقت ہماری جماعت قریباً تین لاکھ کے ہے اگر ایک ایک پیسہ ہی اس سلسلہ کی امداد مثل لنگر و مدرسہ وغیرہ امداد میں دیں تو لاکھوں پیسے ہو سکتے ہیں۔ قطرہ قطرہ بہم سلسل کی امداد امدادمیں ہوسکتے شود در یا ایک ایک بوند پانی سے دریا بن جاتا ہے تو کیا ایک ایک پیسہ سے ہزار ہا روپیہ نہیں بن سکتا اور کیا سلسلہ کی ضروریات پوری نہیں ہوسکتیں؟ اگر ایک شخص چار روٹیاں کھاتا ہے آدھی بھی اگر روٹی بچالے تو بھی اس عہد سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی قرین قیاس ہے کہ اکثر لوگوں کو اب تک کہا بھی نہیں جاتا کہ ہمارے سلسلہ کے لیے کسی چندہ کی ضرورت تھی بہت سے لوگ رو رو کر بیعت کر کے جاتے ہیں۔ اگر ان کو کہا جاوے تو ضرور وہ چندہ دیویں مگر ترغیب دینا ضروری ہے۔ پس میں تم میں سے ہر ایک کو جو حاضر یا غائب ہے تاکید کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کو چندہ سے باخبر کرو اور ہر ایک کمزور بھائی کو بھی چندہ میں شامل کرو یہ موقع ہاتھ آنے کا نہیں۔ کیسا یہ زمانہ برکت کا ہے کہ کسی سے جانیں مانگی نہیں کا