ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 187

کہ ابھی تک یورپ والے ٹکریں ماررہے ہیں کہ شاید قطب شما لی میں کوئی آبادی ہو اور تلاش کر کرکے معلوم کر رہے ہیں کہ کون سے قطعاتِ زمین اوّل آباد تھے اور پھر تباہ ہو گئے۔پس ایسی صورت میں ان مشکلات میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایمان لانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ ربّ، رحـمٰن، رحیم، مالک یوم الدین ہے اور ہمیشہ سے ہی ہے۔جاندار ایک تو تکوّن سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک تکوین سے۔ممکن ہے کہ آدم کی پیدائش کے وقت اَور مخلوقات ہو اور اس کی جنس سے نہ ہو یا اگر ہو بھی تو اس میں کیا ہرج ہے کہ قدرت نمائی کے لیے خدا تعالیٰ نے حوّا کو بھی ان کی پسلی سے پیدا کردیا۔جب انسان بیعت کرتا ہے تو سب اَمرونہی اسے ماننے چاہئیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان چاہیے۔خدا تعالیٰ ہر طرح پر قادر ہے۔ممکن ہے کہ ایک قوم موجود ہو اور اس کے ہوتے وہ اَور قوم پیدا کردیوے یا ایک قوم کو ہلاک کرکے اَور پیدا کردے۔موسٰی کے قصہ میں بھی ایک جگہ ایسا واقعہ بیان ہوا ہے آدم ؑ کے وقت بھی خدا سابقہ قوموں کو ہلاک کر چکا تھا۔پھر جب آدمؑ کو پیدا کیا تواَور قوم بھی پیدا کردی۔خلیفہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ایک قوم ضرورپہلے سے موجود ہو۔ایساہوسکتا ہے کہ ایک اَورقوم کو پیدا کرکے پہلی قوم کا خلیفہ اسے قرار دیا جاوے اورآدم اس کے مورثِ اعلیٰ ہوں کیونکہ خدا کی ذات ازلی ابدی ہے اس پر تغیر نہیں آتا۔مگر انسان ازلی ابدی نہیں ہے اس پر تغیر آتا ہے میرے الہام میں بھی مجھے آدم کہا گیا ہے۔جب روحانیت پر موت آجاتی ہے یعنی اصل انسانیت فوت ہو جاتی ہے تواللہ تعالیٰ بطور آدم کے ایک اَور کو پیدا کرتا ہے اور اس طرح سے ہمیشہ سے آدم پیدا ہوتے رہتے ہیں اگرقدیم سے یہ سلسلہ ایسا نہ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ ۵ یا ۶ ہزار برس سے خداہے قدیم سے نہیں ہے یا یہ کہ اوّل وہ معطّل تھا۔یہ خدا کی عادت ہے کہ بعض قرون کو ہلاک کرتا ہے۔دیکھو نوحؑ کے وقت ایک زمانہ کو ۱ البدر جلد۲ نمبر۲۴مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۸۷