ملفوظات (جلد 5) — Page 185
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۵ جلد پنجم کیا ہرج ہے کہ قدرت نمائی کے لیے خدا تعالیٰ نے حوا کو بھی ان کی پسلی سے پیدا کر دیا۔ جب انسان بیعت کرتا ہے تو سب امر و نہی اسے ماننے چاہئیں اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان چاہیے۔ خدا تعالیٰ ہر طرح پر قادر ہے۔ ممکن ہے کہ ایک قوم موجود ہو اور اس کے ہوتے وہ اور قوم پیدا کر دیوے یا ایک قوم کو ہلاک کر کے اور پیدا کر دے۔ موسیٰ کے قصہ میں بھی ایک جگہ ایسا واقعہ بیان ہوا ہے آدم کے وقت بھی خدا سابقہ قوموں کو ہلاک کر چکا تھا۔ پھر جب آدم کو پیدا کیا تو اور قوم بھی پیدا کر دی۔ خلیفہ کے لیے ضروری نہیں ہے کہ ایک قوم ضرور پہلے سے موجود ہو۔ ایسا ہوسکتا ہے کہ ایک اور قوم کو پیدا کر کے پہلی قوم کا خلیفہ اسے قرار دیا جاوے اور آدم اس کے مورث اعلیٰ ہوں کیونکہ خدا کی ذات ازلی ابدی ہے اس پر تغیر نہیں آتا ۔ مگر انسان ازلی ابدی نہیں ہے اس پر تغیر آتا ہے میرے الہام میں بھی مجھے آدم کہا گیا ہے۔ جب روحانیت پر موت آجاتی ہے یعنی اصل انسانیت فوت ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بطور آدم کے ایک اور کو پیدا کرتا ہے اور اس طرح سے ہمیشہ سے آدم پیدا ہوتے رہتے ہیں اگر قدیم سے یہ سلسلہ ایسا نہ ہو تو پھر ماننا پڑے گا کہ ۵ یا ۶ ہزار برس سے خدا ہے قدیم سے نہیں ہے یا یہ کہ اول وہ معطل تھا۔ یہ خدا کی عادت ہے کہ بعض قرون کو ہلاک کرتا ہے۔ دیکھونوٹ کے وقت ایک زمانہ کو ہلاک کر دیا۔ اس لیے ممکن ہے، ممکن کیا بلکہ یقین ہے کہ نوح کی طرح اس وقت سابقہ قوموں کو ہلاک کر دیا اور پھر ایک نئی پیدائش کی ۔ اگر یہ ہلاکت کا سلسلہ نہ ہو تو پھر زمین پر اس قدر آبادی ہو کہ رہنا محال ہو جاوے۔ یہ قبریں ہی ہیں جنہوں نے یہ پردہ پوشی کی ہے۔ لے ہے 66 ل الحکم میں سے ۔ ” پردہ پوشی کی ہوئی ہے۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۶) البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخه ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۷،۱۸۶