ملفوظات (جلد 5) — Page 185
کوئی آسان کام نہیں ہے۔کیونکہ جب تک ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو کچھ نہیں۔منہ سے دعویٰ کرنا اور عمل سے اس کاثبوت نہ دینا خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑ کا ناہے اور اس آیت کا مصداق ہوجانا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(الصّف:۳،۴) یعنی اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو تم نہیں کرتے ہو۔یہ اَمر کہ تم وہ باتیں کہو جن پر تم عمل نہیں کرتے خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑے غضب کا موجب ہیں۔پس وہ انسان جس کو اسلام کا دعویٰ ہے یا جو میرے ہاتھ پر توبہ کرتا ہے اگر وہ اپنے آپ کو اس دعویٰ کے موافق نہیں بناتا اور اس کے اندر کھوٹ رہتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بڑے غضب کے نیچے آجاتا ہے اس سے بچنا لازم ہے۔اَمرِشرعی اور اَمرِکونی فرمایا۔۳ اوامر کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ایک اَمر شرعی ہوتا ہے جس کے برخلاف انسان کرسکتا ہے۔دوسرے اوامر کونی ہوتے ہیں جس کا خلاف ہو ہی نہیں سکتا۔جیسا کہ فرمایا قُلْنَا يٰنَارُ كُوْنِيْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِيْمَ(الانبیآء:۷۰) اس میں کوئی خلاف نہیں ہوسکتا۔چنانچہ آگ اس حکم کے خلاف ہرگز نہ کرسکتی تھی۔۱ انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے رنگ میں دئیے ہیں جیسے اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ (البقرۃ:۴۴) نماز کو قائم رکھو۔یا فرمایا وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ (البقرۃ:۴۶) ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کونی رنگ اختیار کرلیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا۔۲،۳ ۱ الحکم میں سے۔’’پردہ پوشی کی ہوئی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۶ ) ۲ البدر جلد۲ نمبر۲۴مورخہ ۳؍جولائی۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶، ۱۸۷