ملفوظات (جلد 5) — Page 183
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۳ جلد پنجم خلاف ہو ہی نہیں سکتا۔ جیسا کہ فرما یا قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلَمَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ (الانبياء : ۷۰) اس لے میں کوئی خلاف نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آگ اس حکم کے خلاف ہر گز نہ کر سکتی تھی ۔ اے انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے رنگ میں دیئے ہیں جیسے آقِیمُوا الصَّلوةَ (البقرۃ: ۴۴) نماز کو قائم رکھو۔ یا فرمایا وَ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرۃ:۴۶) ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی : یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کوئی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا ۔ ہے ، ہے ۲۸ جون ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا آدم کے وقت دوسرے انسان موجود تھے آدم علیہ السلام جو خلیفہ بن کر آئے تو اس وقت کون سی قوم موجود تھی جس کے وہ خلیفہ تھے؟ اور اگر کوئی قوم موجود تھی تو پھر حوا ان کی زوجہ کی نئی پیدائش کی ضرورت نہ تھی ۔ اسی موجودہ قوم میں سے وہ نکاح کر سکتے تھے ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ حدیث شریف میں ہے کہ بہت سے پیچ در پیچ جو امور غیر مفید ہوں ان کو انسان ترک کر دے۔ دو ل البدر میں اس کے آگے مزید یوں لکھا ہے ۔ اس میں اللہ تعالیٰ انسان کو عبرت دیتا ہے کہ دیکھو جب آگ تک اس کی فرمانبردار ہے تو انسان کو کہاں تک فرمانبردار ہونا چاہیے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶) البدر میں ہے۔ ” جب انسان دیر تک ان حکموں پر کار بند رہتا ہے تو دیر تک ان حکموں پر کار بند رہتا ہے تو اس پر بھی وہ زمانہ آجاتا ہے کہ کہا جاتا ہے قُلْنَا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا (الانبیاء : ۷۰) یعنی تو جو مصیبتوں میں جل رہا تھا تو اب ٹھنڈا ہو جا اور اس آگ کی طرح فرمانبردار ہو جا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۶) سے الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۱۵ دو ہے الحکم میں ہے ۔ ” حدیث شریف میں آیا ہے ۔ وَمِنْ حُسْنِ الْإِسْلَامِ تَرْكُ مَا لَا يَعْنِيهِ پیچ در پیچ غیر مفید امور کو ترک کر دینا بھی اسلام کی خوبی ہے ۔“ الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵)