ملفوظات (جلد 5) — Page 182
ہیں انسان کو چاہیے کہ کافر نہ بنے مومن بنے اور مومن نہیں ہوتا جب تک کہ دل سے ایمان نہ رکھے کہ سب پرورشیں اور رحمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔انسان کو اس کا دوست ذرّہ بھی فائدہ نہیں دے سکتا جب تک کہ خدا تعالیٰ کا رحم نہ ہو۔اسی طرح بچے اور تمام رشتہ داروں کا حال ہے اللہ تعالیٰ کا رحم ہونا ضروری ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دراصل میں ہی تمہاری پرورش کرتا ہوں جب خدا تعالیٰ کی پرورش نہ ہو تو کوئی پرورش نہیں کرسکتا دیکھو جب خدا تعالیٰ کسی کو بیمار ڈال دیتا ہے تو بعض دفعہ طبیب کتنا ہی زور لگاتے ہیں مگر وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔طاعون کے مرض کی طرف غور کرو سب ڈاکٹر زور لگا چکے مگر یہ مرض دفع نہ ہوا۔اصل یہ ہے کہ سب بھلائیاں اسی کی طرف سے ہیں اور وہی ہے کہ جو تمام بدیوں کو دور کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (الفاتـحۃـ:۲) سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور تمام پرورشیں تمام جہان پر اسی کی ہیں۔الرحـمٰن وہی ہے جس کی رحمتیں بے بدلہ ہیں مثلاً انسان کا کیا عذرتھا اگر اللہ تعالیٰ اسے کتّا بنا دیتا تو کیا یہ کہہ سکتا تھا کہ اے اللہ تعالیٰ میرا فلاں عمل نیک تھا اس کا بدلہ تو نے نہیں دیا۔الرحیم اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کے بدلہ نیک نتیجہ دیتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنے والا روزہ رکھنے والا صدقہ دینے والا دنیا میں بھی رحم پاوے گا اور آخرت میں بھی چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ(التوبۃ:۱۲۰)اور دوسری جگہ فرماتا ہے مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَ مَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ(الزلزال:۸،۹) یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جوکوئی ذرّہ سی بھی بھلائی کرتا ہے ۱ البدرجلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۵،۱۸۶ ۲ البدر میں لکھا ہے کہ ’’ چند ایک احباب نے بیعت کی اس پر حضرت اقدس ؑ نے ذیل کی مختصر تقریر فرمائی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶) ۳ البدر میں ہے کہ ’’ایک سوال پر فرمایا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۳؍جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸۶)