ملفوظات (جلد 5) — Page 181
۲۵؍جون ۱۹۰۳ء ربوبیتِ تامہ رات کو بعد از نماز عشاء چند مستورات نے بیعت کی۔حضرت اقدس نے ان کو ایک جامع وعظ فرمایا۔جس قدر حصہ اس کا قلمبند ہوا وہ ہدیہ ناظرین ہے۔اس سے مطلب یہ ہے کہ قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی پرورش ضرور ہوتی ہے۔دیکھو بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کس طرح خدا تعالیٰ اس کے ناک، کان وغیرہ غرض اس کے سب اعضا بناتا ہے اور اس کے دو ملازم مقرر کرتا ہے کہ وہ اس کی خدمت کریں۔والدین بھی جو مہربانی کرتے ہیں اور پرورش کرتے ہیں وہ سب پرورشیں بھی خدا تعالیٰ کی پرورشیں ہوتی ہیں۔بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اَوروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اگر فلاں نہ ہوتا تو میں ہلاک ہوجاتا۔میرے ساتھ فلاں نے احسان کیا۔وہ نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (الفلق:۲) میں اس خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جس کی تمام پرورشیں ہیں۔رَبّ یعنی پرورش کنندہ وہی ہے اس کے سوا کسی کا رحم اور کسی کی پرورش نہیں ہوتی حتی کہ جو ماں باپ بچے پر رحمت کرتے ہیں دراصل وہ بھی اسی خدا کی پرورشیں ہیں اور بادشاہ جو رعایا پر انصاف کرتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے وہ سب بھی اصل میں خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ یہ سکھلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں سب کی پرورشیں اسی کی ہی پرورشیں ہوتی ہیں بعض لوگ بادشاہوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا اور میرا فلاں کام فلاں بادشاہ نے کر دیا وغیرہ وغیرہ یادرکھو ایسا کہنے والے کافر ہوتے ۱ اس جگہ البدر کے ڈائری نویس نے نوٹ دیا ہے کہ ’’مَیںاسے نوٹ نہ کرسکا اور نہ یاد رکھ سکا۔‘‘ عبارت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس ؑ کے صحیح الفاظ قلمبند نہیں کیے جاسکے۔مثلاً ’’پتھر اونچا ہوگیا ‘‘ کے الفاظ درست نہیں۔’’پتھر سرک گیا‘‘ ہونا چاہیے۔حضور نے حدیث کا مشہور واقعہ بیان فرمایا جسے ڈائری نویس صاحب اچھی طرح قلمبند نہیں کرسکے۔(مرتّب)