ملفوظات (جلد 5) — Page 181
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۱ جلد پنجم بولا پھر خدا تعالیٰ کی بڑی مہربانیاں ہیں کہ اس نے ذرہ سی نیکی کے بدلہ بڑے بھاری گناہ سے بچالیا۔ اور ہمیں اس خدا تعالیٰ کی ہی پرستش کرنی چاہیے جو کہ ذرہ سے کام کا بھی اجر دیتا ہے۔خداوہ ہے کہ انسان اگر کسی کو پانی کا گھونٹ بھی دیتا ہے تو وہ اس کا بدلہ دیتا ہے دیکھو ایک عورت جنگل میں جا رہی تھی رستہ میں اس نے ایک پیاسے کتے کو دیکھا اس نے اپنے بالوں سے رستہ بنا کر کہوہ ( کنوئیں ) سے پانی کھینچ کر اس کتے کو پلایا جس پر رسول کریم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کر لیا ہے وہ اس کے تمام گناہ بخش دے گا اگر چہ وہ تمام عمر فاسقہ رہی ہے۔ ایک اور قصہ بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تین آدمی پہاڑ پر پھنس گئے تھے وہ اس طرح کہ انہوں نے پہاڑ کی غار میں ٹھکانا لیا تھا جبکہ ایک پتھر سامنے سے آگرا اور رستہ بند کر لیا تب ان تینوں تھا نے کہا کہ اب تو نیک کام ہی بچائیں گے چنانچہ ایک نے کہا کہ ایک دفعہ میں نے مزدور لگائے تھے مزدوری کے وقت ان میں سے ایک مزدور کہیں چلا گیا میں نے بہت ڈھونڈا آخر نہ ملا پھر میں نے اس کی مزدوری سے کوئی بکری خریدی اور اس طرح چند سال تک ایک بڑا گلہ ہو گیا پھر وہ آیا اس نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ آپ کی مزدوری کی تھی اگر آپ دیں تو عین مہربانی ہوگی میں نے اس کا تمام مال اس کے سپرد کر دیا اے اللہ اگر تجھے میرا یہ نیک عمل پسند ہے تو میری مشکل آسان کر اتنے میں تھوڑا پتھر اونچا ہو گیا۔ پھر دوسرے نے اپنا قصہ بیان کیا لے اور پھر بولا کہ اے اللہ اگر میری یہ نیکی تجھے پسند ہے تو میری مشکل آسان کر پھر پتھر ذرا اور اونچا ہو گیا۔ پھر تیسرے نے کہا کہ میری ماں بوڑھی تھی ایک رات کو اس نے پانی طلب کیا میں جب پانی لایا تو وہ سو چکی تھی میں نے اس کو نہ اٹھایا کہ کہیں اس کو تکلیف نہ ہو اور وہ پانی لیے تمام رات کھڑا رہا۔ صبح وو ے اس جگہ البدر کے ڈائری نویس نے نوٹ دیا ہے کہ ”میں اسے نوٹ نہ کر سکا اور نہ یادرکھ سکا۔ عبارت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے صحیح الفاظ قلم بند نہیں کیے جاسکے۔ مثلاً ” پتھر اونچا ہو گیا“ کے الفاظ درست نہیں ۔ پتھر سرک گیا ہونا چاہیے۔ حضور نے حدیث کا مشہور واقعہ بیان فرمایا جسے ڈائری نویس صاحب اچھی طرح قلمبند نہیں کر سکے ۔ (مرتب)