ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 169

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۹ جلد پنجم امور کے واسطے ہوتی ہے اور ایک وہ امور جو کہ از روئے کشف والہام کے ایک مامور پر نازل ہوتے ہیں اور اسے حکم ہوتا ہے کہ یہ کرو بظاہر گو وہ شریعت کے مخالف ہو مگر اصل میں بالکل مخالف نہیں ہوتا ۔ مثلاً دیکھ لو کہ از روئے شریعت کے تو دیدہ دانستہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا منع ہے وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُم إِلَى التَّهْلُكَةِ ( البقرة : ۱۹۶) مگر ایک شخص کو حکم ہوتا ہے کہ تو دریا میں جا اور چیر کر نکل جا تو کیا وہ اس کی نافرمانی کرے گا ؟ بھلا بتلاؤ تو سہی کہ حضرت ابراہیم کا عمل کہ بیٹے کو ذبح کرنے لگ گئے کون سا شریعت کے مطابق تھا ؟ کیا یہ کہیں شریعت میں لکھا ہے کہ خواب آوے تو سچ مچ بیٹے کو اُٹھ کر ذبح کرنے لگ جاوے؟ مگر وہ ایسا عمل تھا کہ ان کے قلب نے اسے قبول کر کے تعمیل کی۔ پھر دیکھو ۔ موسی کی ماں تو نبی بھی نہ تھی مگر اُس نے خواب کے رُو سے موسیٰ کو دریا میں ڈال دیا۔ شریعت کب اجازت دیتی ہے کہ اس طرح ایک بچہ کو پانی میں پھینک دیا جاوے۔ بعض امور شریعت سے وراء الورا ہوتے ہیں اور وہ اہل حق سمجھتے ہیں جو کہ خاص نسبت خدا تعالیٰ سے رکھتے ہیں اور وہی ان کو بجالاتے ہیں ۔ ورنہ اس طرح تو خدا پر اعتراض ہوتا ہے کہ وہ لغوا مور کا حکم کرتا ہے حالانکہ خدا کی ذات اس سے پاک ہے۔ اس کا سر وہی جانتے ہیں جو خدا سے خاص تعلق رکھتے ہیں ۔ ایسے امور میں جلد بازی سے کام نہ لینا چاہیے۔ خدا تعالیٰ نے یہ قصے اس لیے درج کئے ہیں کہ انسان ادب سیکھے۔ ایک مرید کا ادب اپنے مرشد کے ساتھ یہ بھی ہے کہ اس پر اعتراض نہ کیا جاوے اور اس کے افعال و اعمال پر اعتراض کرنے میں مستعجل نہ ہو۔ جو علم خدا نے اسے ( مرشد کو ) دیا ہوتا ہے۔ اس کے رُو سے خبر ہی نہیں ہوتی ورنہ اس طرح کی مخالفت کرنے سے کہیں سلب ایمان کی نوبت نہ آجاوے۔ شریعت کا ایک رنگ ظاہر پر ہے اور ایک محبت الہیہ پر ہے کہ جن سے خدا کے خاص تعلق ہوتے ہیں ان پر کشف ہوتے ہیں ایسے امور ان سے صادر ہوتے ہیں کہ لوگوں کو اعتراض کا موقع ملتا ہے۔ موسیٰ پر اعتراض کیا کہ جشن کیوں کی ؟ آخر اس حرکت سے خدا کا غضب ان پر شروع ہوا اور جذام کے آثار نمودار ہوئے دوسرے گناہوں میں تو عذاب دیر سے آتا ہے مگر ان میں فوراً شروع ہو جاتا ہے۔ د