ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 169

نمونہ قدرت دیکھ چکا ہے اور ایک دوسرا جس کے پاس کوئی نظیر نہیں کہ جسے پیش کرسکے صرف ظنّی امور پاس ہیں وہ کیسے برابر ہوں۔خدا کی صفات کا علم ہونا ضروری ہے ایک ہندو کا ذکر ہوا کہ وہ کہتا ہے کہ سب مذہب نجات یافتہ ہیں اور آپ مسیح بھی سچے ہیں وہ اپنے خیال کی تائید میں یہ شعر پیش کرتا ہے۔؎ ذات پات نہ پوچھے کو جو ہر کو بھجے سو ہر کا ہو فرمایا۔یہ بات تو ٹھیک ہے کہ جو خدا کی عبادت اور اطاعت کرے وہی اس کا ہوسکتا ہے مگر اس بات کا تو پتا ہونا چاہیے کہ آیا خدا کو پوج رہا ہے یا شیطان کو؟ کیا وہ کسی اور کا پجاری ہو کر خدا کا ہوسکتا ہے؟ اس لیے اوّل خدا کی صفات کا علم ہونا ضروری ہے۔۱ ۱۲؍جون ۱۹۰۳ء ( مجلس قبل ازعشاء) موسٰی کا خضر کے قتل پر اعتراض کرناکیوں درست نہ تھا؟ سوال۔ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں حکم تھا کہ کوئی نفس بلا کسی نفس کے بدلہ قتل نہ کیا جائے تو پھر خضرؑ نے کیوں اس جان کو قتل کیا اور موسیٰ نے جواس پر سوال کیا تو اسے کیوں خلاف ادب جانا گیا؟ موسٰی نے تورات کے رُو سے سوال کیا تھا۔۲ جواب۔فرمایا۔مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ ( المائدۃ:۳۳) کے ساتھ آگے اَوْ فَسَادٍ فِي الْاَرْضِ( المائدۃ:۳۳) بھی لکھا ہے فساد کا لفظ وسیع ہے جو شَے کسی زمانہ میں فساد کا مو جب ہوسکتی ہے وہ آیندہ زمانہ میں قتل ِنفس کا موجب بھی ہوسکتی ہے۔حشرات الا رض کو ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں ہزاروں روز مارے جاتے ہیں اس لیے کہ وہ کسی کی ایذا کا موجب نہ ہوں چنا نچہ لکھا ہے کہ قَتْلُ الْمُوْذِیِّ قَبْلَ الْاِیْذَآءِ تو ہر ایک موذی شَے کا قتل اس کے ایذا کے دینے سے