ملفوظات (جلد 5) — Page 160
گھروں کو ذکر اللہ سے معمور کرو۔صدقہ و خیرات دو۔گناہوں سے بچو۔اللہ رحم کرے جو لوگ بیعت کرکے چلے جاتے ہیں اور پھر شکل بھی نہیں دکھلاتے ان کے لیے دعا کیا ہو جب ہمیں وہ یاد تک بھی نہیں رہتے۔بار بار ملو اور تعلق محبت بڑھائو۔جو بار بار آتا ہے اس کی ذرا سی تکلیف سے دعا کا خیال آجاتا ہے مگر جو لوگ دنیا کے معاملات میں مستغرق رہتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں گویا انہوں نے بیعت ہی نہیں کی۔۱ یاد رکھو اور عمل کرو جو جس سے پیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے۔۲،۳ ۳۰؍مئی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء ) ایک صاحب کے مقدمہ کی تاریخ عنقریب تھی۔وہ دعا کروانے کے واسطے آئے تو حضرت اقدس نے فرمایاکہ چار پانچ دن یہاں رہو اور ہر روز ملاقات کرو کہ دعا کی تحریک ہو۔یہ نہ خیال کرو کہ پیچھے نقصان ہوگا۔سب کچھ خدا کرتا ہے اسباب پر نظر نہ رکھو۔ہم یہ نہیں کہتے کہ رعایت اسباب ہی چھوڑ دو۔بلکہ یہ کہ یہ نہ خیال کرو کہ فلاں بات ہوتو ہی یہ ہوگا۔جیسے کہ روٹی کھانی پانی پینا منع نہیں ہے۔مگر اس پر یہ بھروسہ کرناکہ اس سے زندگی ہے یہ منع ہے۔کئی آدمی روٹی کھاتے ہیں۔ادھر سُول(درد) ہو ا اور جان گئی۔پانی پیا اور ہیضہ سے مَر گئے ان پر بھروسہ کرنا یہ شرک ہے۔اسباب وہی بہم پہنچاتا ہے۔ریاست کپور تھلہ سے خبر آئی کہ بعض لوگوں نے ایک مشورہ کرکے اس اَمر کا منصوبہ بنانا چاہا ہے کہ وہاں کی احمدی جماعت کے بعض ممبروں کو ایذا دیویں۔اس پر فرمایا۔وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ( اٰل عـمران:۵۶) یہ اس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ فتنہ فساد ہو۔دعا کی جاوے گی۔ایک شخص نے عرض کی کہ سارے گائوں میں مَیں ایک اکیلا آپ کا مرید ہوں۔فرمایاخدا پر بھروسہ کرو۔خدا پر بھروسہ کرنے ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۲ ؍اجون ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۶۲