ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 158

چنا نچہ قرآن شریف میں لکھا ہے اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْمُعَذِّبُوْهَا (بنی اسـرآءیل:۵۹) کوئی بستی اور کوئی گا ؤں ایسا نہ ہوگا کہ جسے ہم قیامت سے پہلے خطرناک عذاب میں مبتلا نہ کر دیں گے یا ہلاک نہ کردیں گے۔غرض کہ یہ منذر نشان ہے کسوف و خسوف کا نشان لوگوں نے ہنستے ہوئے دیکھا اور طاعون کا نشان روتے ہوئے۔احمدیوں کا طاعون سے مَرنا بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ تمہارے آدمی کیوں مَرتے ہیں ان نا دانوں کو اتنا معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی جب لوگ عذاب کا معجزہ مانگتے تھے تو ان کو تلوار کا معجزہ ملا اور یہ بھی ایک قسم کا عذاب تھا۔چنانچہ۱ کئی صحا بہؓ بھی تلوار سے شہید ہوئے مگر کیا ابو بکرؓ وعمرؓ جیسے بھی ہلاک ہوئے؟ اللہ تعالیٰ نے جس جس انسان کے دماغ یا ہاتھ سے کوئی اپناکام لینا ہے وہ تو بچ ہی رہے اور با لمقابل جتنے ۱البدر میں یہ مضمون یو ں بیا ن ہوا ہے۔’’ ہر نبی کے سا تھ ایسا ہوا کہ مقابلہ کے وقت جہاں کفار مَرتے رہے اس کی جمعیت میں سے بھی کچھ مَرتے رہے حضرت مو سٰی کی جنگ میں اگر ایک طرف کنعانی مَرتے تو ایک طرف اسرائیلی بھی مَرتے۔اگر خدا ایسی کھلی کھلی بات کر دے کہ اندھے بھی فرق کریں تو پھر ایک بھی کافر نہ رہے سو ٹے کا سانپ اگر بنا دیا تو اس سے لوگوں کو کیا؟ مگر جان کے بچنے کا علاج اگر ان کو ملتا ہوتو ایمان لا نے سے کون با ہر رہتا ہے۔تمام یورپ اور امریکہ بھی جلد ہی داخل اسلام ہو جاویں۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵۶) ۲ البدر سے۔’’ اپنے وجود کو جس قدر کار آمد بنا وے گا اسی قدر اس کی حفاظت ہو گی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰مورخہ ۵؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵۶) ۳ البدر میں ہے۔’’ جب انسان ایک بدی کرتا ہے اور جانتا ہے کہ خدا نے اس سے منع کیا ہے تو وہ دہریہ ہوتا ہے۔خدا کی عظمت اور جلال اس کے دل میں نہیں ہوتا۔ایسا شخص خدا کی حفاظت میں نہیں ہے وہ جب چاہے اُسے مار دے یا ایسی بَلا میں اُسے ڈال دے کہ نہ زندوں میں ہواور نہ مُردوں میں،لیکن جو شخص خدا کی عظمت دل میںرکھتا ہے اور اس کی نافرمانی سے ڈرتا ہے تو قبل اس کے کہ وہ کسی مصیبت میں پڑے خدا کی نظر میں ہوتا ہے اور وہ اُسے محفوظ رکھتا ہے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۱مورخہ ۱۲؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ۱۶۱)