ملفوظات (جلد 5) — Page 155
تمہارا اللہ کے ساتھ ہے جہاں تک ممکن ہو اس عہد پرمضبوط رہنا چاہیے نمازوروزہ، حج وزکوٰۃ امور شرعی کا پابند رہنا چاہیے اور ہر ایک برائی اور شائبہ گناہ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ہماری جماعت کو ایک پاک نمونہ بن کر د کھانا چاہیے زبانی لاف وگزاف سے کچھ نہیں بنتا جب تک انسان کچھ کرکے نہ دکھائے۔تم دیکھتے ہو کہ طاعون سے کس قدر لوگ ہلاک ہو رہے ہیں گھروں کے گھر برباد ہو رہے ہیں اور ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ تبا ہی کب تک جا ری رہے طاعون لوگوں کی بد اعمالی کے سبب غضب الٰہی کی صورت میں بھیجی جاتی ہے یہ بھی ایک طرح کی رسول ہے۔جو اس کام کو کر رہی ہے ہزاروں ہیں جو اپنے سامنے ہلاک شدہ لوگوں کے پشتے پر پشتے دیکھتے ہیں۔خاندان کے خاندان تباہ ہو گئے ہزاروں لاکھوں بچے بے پدر، لاکھوں خاندان بے ٹھکا نہ ہو گئے جہاںیہ پڑی ہے بے نام و نشان اس جگہ کو کر دیا بعض گھروں میں کیا محلوں اور گا ؤں میں کوئی آباد ہونے والا ۱ البدر میں ہے۔’’عیسائیوں کی لگاتار یہ کوشش ہے کہ کسی طرح اسلام کا نا م زمین سے مٹ جا وے اور اب خدا چاہتا ہے کہ از سرِ نو اسلام کو زندہ کر ے۔سا بقہ کتب میں ان باتوں کا ذکر تھا کہ مسلمانوں کو ایک ز حمت اندرونی ہو گی ایمان اٹھ جا وے گا دنیا کے کیڑے ہو جاویں گے جو محبت خدا سے چاہیے وہ دنیا سے کریں گے۔دوستی محبت میل ملاپ سب دنیا کے واسطے ہو گا۔دوسری بَلا اور آفت یہ ہو گی کہ ایک انسان کی پرستار عیسائی قوم ان کو گمرا ہ کر نے پر کمر بستہ ہو گی سو تم دیکھتے ہو کہ انہوں نے مکر کا جا ل کیسا پھیلایا ہے۔شہر بہ شہر ان کے پادری موجود ہیں۔عورتیں ہر جگہ پھر تی ہیں گاؤں میں چھاؤنیاں ڈا لی ہوئی ہیں ان کا ارادہ ہے کہ ایک مسلمان بھی دنیا میں نہ رہے۔من گھڑت باتیں بناکر آنحضرتؐکی بے اد بیا ں کرتے ہیں اور رات دن اس کوشش میں ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلما نوں کے دل بیزار ہوں۔حا ل کے مسلمان جن کی مت ما ری گئی ہے۔بد قسمتی سے اندھے ہو گئے ہیں۔وہی بات کرتے ہیں کہ اسلام کو فا ئد ہ نہ پہنچے اور عیسائیوں کو پہنچے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۶۳ برس کہتے ہیں اور مسیح کو قیامت تک زندہ ما نتے ہیں پھر یہ کہ آخر ی ز ما نہ میں وہی آو ے گا۔حَکم اور قاضی بھی وہی ہو گا۔دوسری بات یہ مانتے ہیں کہ وہ خالق بھی ہے۔جانور اس نے بنائے مُردہ اس سے زندہ ہو گئے۔غرض کہ اس قسم کی باتوں سے عیسائیوں کی اس قدر تائید کرتے ہیں کہ ان میں اور عیسائیوں میں صرف انیس اور بیس کا فرق رہ جاتا ہے۔جس قدر باتیں یہ مسیحؑ کی نسبت کرتے ہیں ویسی ایک بھی آنحضرتؐکی نسبت نہیں کرتے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰مورخہ ۵؍ جو ن ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵۶)