ملفوظات (جلد 5) — Page 153
والے۔۲ حضرت اقدس نے پھر اپنی تقریر کو شروع کیا اور فرمایا کہ یورپ اور اسلامی ممالک کا موازنہ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک شریف آدمی جب خلافِ واقعہ بات سنتا ہے اور پھر اس پر اصرار کرتا ہے تو دل میں سخت رنجیدہ ہوتا ہے۔ہمارا سوال تو یہ ہے کہ پادری صاحب سے پوچھا جاوے کہ گناہ سے تمہاری کیا مُراد ہے؟ آیا زنا،چوری، فریب، قتل، قمار بازی، شراب نوشی تمہارے نزدیک گناہ میں داخل ہیں یا نہیں۔اگر ہیں تو کیا یورپ کی حالت اسلامی ممالک کی حالت سے بہتر ہے یا ابتر یا مساوی۔صغائر کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔مثلاً ایک شخص بد نظری میں مبتلا ہے۔ممکن ہے کہ اس عورت کو خبر ہی نہ ہو جس پر بد نظری کرتا ہے۔لیکن ایک شخص جو زنا کرتا، شراب پیتا ہے اس کی خبر ایک دنیا کو ہوگی۔ان جرائم کا اس قدر زور ہے کہ چھپائے سے چھپ سکتا ہی نہیں۔قمار بازی میں اتلافِ حقوق ہوتا ہے۔شراب نوشی کے ساتھ دوسرے گناہ مثل زنا،قتل وغیرہ لازمی پڑے ہوئے ہیں جہاں تک ہمیں مجرموں کے حالات سے شہادت ملتی ہے وہ یہ ہے کہ شراب سے زنا ترقی کرتا ہے۔چنانچہ شراب نوشی میں اس وقت یورپ اوّل درجہ پر ہے اور زنامیں بھی اوّل نمبر پر۔اب دیکھئے کہ پردہ کی رسم ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ جیسا کتاب اللہ نے بتایا ہے اور تجارب نے اس کی تصدیق کی ہے سچا تزکیہ نفس جو مجاہدات سے پیدا ہوتا ہے وہ پردہ سے ہی حاصل ہوتا ہے۔مومنوں کے تین طبقے ہیں۔ایک وہ جو ٹھوکر کھانے کے لائق ہوتے ہیں۔۱البدر میں ہے۔’’ اور تیسرے درجہ والے دور کے ستاروں کی طرح ہیں اس لیے بلحاظ کثر ت کے خدا کے قانون نے چاہا کہ پر دہ کی رسم عا م ہو۔تجا رب اور نظا ئر بھی بتلا رہے ہیں۔یو رپ اور امر یکہ اور فرانس کی سیر کرو تو پتا لگے گا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۵) ۲ الحکم جلد ۷نمبر ۲۲ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۷