ملفوظات (جلد 5) — Page 8
کیا تم یہ قبول کرتے ہو کہ ایک کے ہاں بہت سے مہما ن ہوں تو ان میں سے ایک کو وہ مکلّف کھانا پلاؤ وغیرہ دیوے اور دوسرے کو معمولی کھانا شوربا یا روٹی وغیرہ۔باقی مہما ن کہیں گے کہ کا ش کہ ہم اس گھرمیں مہما ن نہ ہوتے۔اسی طرح ایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبر جو گذرے ہیں انہوں نے کیا گناہ کیا کہ جو فضیلت اور رتبہ عیسیٰ علیہ السلام کو دیا جاتا ہے ان میں سے ایک کو بھی وہ نہ ملا۔ان سب کو فوت مانتے ہو اور ایک عیسیٰ کو زندہ اور و ہ بھی آسمان پر۔قرآن فرماتا ہے رَبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا (طٰہٰ:۱۱۵) اور حضرت تو اس دعا کو برابرمانگتے رہے۔آنحضرت کی عمر۶۳ برس کی ہوئی۔دوسرے تمام پیغمبروں کو گھٹانا اور مسیح کو سب سے بڑھ کر فضیلت دینا ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ کون سی فضیلت مسیح کو دوسروں پرہے؟ انہوں نے نہ ساری دنیا کی اصلا ح کا دعویٰ کیا۔نہ کوئی دکھ آنحضرت کی طرح ان کو پہنچا۔نہ مقابلہ کی نوبت آئی۔نہ کوئی شکست اٹھانی پڑی۔چندآدمی صرف ایمان لائے وہ بھی پکڑے گئے۔اس کے مقابلہ میں آنحضرت کو دیکھو۔آپ کا دعویٰ کل جہان کے لیے اور سخت سے سخت دکھ اور تکالیف آپ کو پہنچے۔جنگیں بھی آپ نے کیں۔ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ آپ کی زندگی میں موجود تھے پھر ان باتوں کے ہوتے ہوئے جو شخص آنحضرت کی شان میں کوئی ایسا کلمہ زبان پرلائے گا۔جس سے آپ کی ہتک ہو وہ حرامی نہیں تواور کیا ہے؟ ان کم بختوں سے کوئی پوچھے کہ پھر تم محمد رسول اللہ کیوں کہتے ہو عیسیٰ رسول اللہ ہی کہو۔اب تم کو چاہیے کہ جہاں تک ہوسکے آنحضرت کو عزّت دو۔اگر تم یہ کہوکہ آنحضرت آسمان پرزندہ ہیں تو ہم آج مانتے ہیں مگر جس سے تم کو فیض اور فائدہ کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔اس کو جھوٹی فضیلت دینے سے تم کو کیا حاصل؟ تمام فیضوںکا سر چشمہ قرآن ہے، نہ انجیل نہ توریت۔جو قرآن کو چھوڑکر ان کی طرف جھکتا ہے وہ مرتد اور کافر ہے۔مگرجو قرآن کی طرف جھکتاہے وہ مسلمان ہے۔کیا ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ آنحضرت کو جب حفاظت پیش آئی تو خدا نے آپ کو غار میں جگہ دی اور عیسٰیؑ کو جب وہ موقع پیش آیا تو آسمان پر جابٹھایا۔پھر آنحضرت کی عمر ۶۳ برس کی کہتے ہیں اور عیسٰیؑ کو اب تک زندہ مانتے ہیں۔ان