ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 150 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 150

ہے۔نزول اور بعثت کا فرق جب زمانہ کی پلیدی حد درجہ تک پہنچتی ہے تو آسمان سے جو تائید یافتہ آتا ہے۔اس پر نزول کا لفظ بولا جاتا ہے اور جب زمانہ کچھ سدھرا ہوا ہو تو بعثت کا لفظ اس کے موزوں ہوتا ہے۔(قبل از عشاء) الہام فرمایا کہ یہ الفاظ الہام ہوئے ہیں۔مگر معلوم نہیں کہ کس کی طرف اشارہ ہے۔’’بلا نازل یا حادث یا‘‘ یاد نہیں رہا کہ یا کے آگے کیا تھا۔رؤیا کا معاملہ بھی عجیب ہے پیچ در پیچ بات ہوتی ہے اور الگ الگ رنگ ہوتا ہے۔صحابہ کرام کی شہادت کو آنحضرتؐنے گائیوں کے ذبح ہونے کے رنگ میں دیکھا۔حالانکہ خدا اس بات پر بھی قادر تھا کہ خواب میں خاص صحابہ ہی کو دکھلا دیتا۔شیطان سے مُراد فرمایا۔شیطان سے مُراد مجسم شَے ہی نہیں ہوتی جیسے آج کل کے لوگ شیطان کے لفظ سے خیال کرتے ہیں کہ وہ کوئی لباس بھی پہنتا ہوگا بلکہ اس سے مُراد شیطانی وساوس ہوتے ہیں یا کوئی شریر النفس آدمی۔۱ ۲۸؍ مئی ۱۹۰۳ء ۱۵؍ مئی ۱۹۰۳ء کو کالج تعلیم الاسلام کا افتتاحی جلسہ ہونا تھا مگر چونکہ حضرت اقدسؑ کی طبیعت ناساز تھی اور آپ شریک جلسہ نہ ہو سکتے تھے اس لئے وہ تاریخ ملتوی کر دی گئی لیکن گذشتہ ایام سے آپ کی ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۴ ۲ البدر میں اس سے پہلے یہ ذکر ہے کہ ’’بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس نے ماہ ربیع الاوّل ۱۳۲۱ ہجری المقدس کا ماہ مبارک دیکھا اور پھر اس پر فرمایا کہ ’’ہر مہینہ اپنے اندر خیر اور شر کے لوازم رکھتا ہے اس لیے دعا کرنی چاہیے۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۵)