ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 149 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 149

ہیں جو شیطان کی غلامی میں پڑے ہوئے ہیں۔البتہ دعا کرنی چاہیے خواہ اپنی ہی زبان میں ہو۔سچے اضطرا ب اور سچی تڑپ سے جناب الٰہی میں گداز ہوا ہو ایسا کہ وہ قادر الحی القیوم دیکھ رہا ہے۔جب یہ حالت ہوگی تو گناہ پر دلیری نہ کرے گا جس طرح انسان آگ یا اور ہلاک کرنے والی اشیاء سے ڈرتا ہے ویسے ہی اس کو گناہ کی سوزش سے ڈرنا چاہیے۔گناہگار زندگی انسان کے لیے دنیا میں مجسم دوزخ ہے جس پر غضبِ الٰہی کی سموم چلتی اور اس کو ہلاک کر دیتی جس طرح آگ سے انسان ڈرتا ہے اسی طرح گناہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی آگ ہے ہمارا مذہب یہی ہے کہ نماز میں رو رو کر دعائیں مانگو تا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے فضل کی نسیم چلائے دیکھو شیعہ لوگ کیسے راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں حسین حسین کرتے مگر احکامِ الٰہی کی بے حرمتی کرتے ہیں۔حالانکہ حسین کو بھی بلکہ تمام رسُولوں کو استغفار کی ایسی سخت ضرورت تھی جیسے ہم کو۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیّین کا فعل اس پر شاہد ہے۔کون ہے جو آپ سے بڑھ کر نمونہ بن سکتا ہے۔۱ ۲۷؍مئی ۱۹۰۳ء (بوقتِ ظہر) ایک صاحب نے عرض کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تو خدائے واحد پر لوگوں کا ایمان نہ تھا اس لئے بیعت کی ضرورت تھی مگر اب تو سب خدا کو مانتے ہیں پھر بیعت کی کیا ضرورت ہے؟ فرمایا کہ اب بھی توحیدکہاں ہے اس کا نام و نشان نہیں ہے جس طرح منافق صرف زبان سے کہہ چھوڑتے کہ ہم ایمان لائے ایسے ہی اب برائے نام خدا کا لفظ زبان پر آجاتا ہے جس کے اندر کوئی حقیقت نہیںہوتی کفر اور فسق کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔نجاست سے بھرا ہوا دل لوگوں کا ہے خود اگر اپنے دل ہی سے شہادت لو تو معلوم ہوگاکہ خدا سے کہاں تک تعلق ہے اور سچی توحید کہاں ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۴