ملفوظات (جلد 5) — Page 148
ہرگزہر گز ماننے کے قابل نہیں۔اگر یہ لوگ کل معاملات دنیوی و دینی کو ان خود ساختہ بد عات سے بھی درست کرسکتے ہیں تو یہ ذرا ذرا سی بات پر کیوں تکرار کرتے لڑتے جھگڑتے حتی کہ سرکاری عدالتوں میں جائز و ناجائز حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔یہ سب باتیں در اصل وقت کا ضائع کرنا اور خدا داد دماغی استعدادوں کا تباہ کرنا ہے۔انسان اس لیے نہیں بنایا گیا کہ لمبی تسبیح لے کر صبح و شام تمام لوازمات و حقوق کو تلف کرکے بے تو جہگی سے سبحان اللہ سبحان اللہ میں لگا رہے۔اپنا اوقاتِ گرامی بھی تباہ کرے اور خود اپنے قویٰ کو تباہ کرے اور اَوروں کے تباہ کرنے کے لیے شب وروز کوشاں رہے۔اللہ تعالیٰ ایسی معصیت سے بچاوے۔الغرض یہ سب باتیں سُنّتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے سے پیدا ہوئیں۔یہ حالت ایسی ہے جیسے پھوڑا کہ اندر سے تو پیپ سے بھرا ہوا ہے اور باہر سے شیشے کی طرح چمکتا ہے۔زبان سے تو وِرد و وظائف کرتے ہیں اور اندرونے بدکاری و گناہ سے سیاہ ہوئے ہوئے ہیں۔انسان کو چاہیے کہ سب کچھ خدا سے طلب کرے۔جب وہ کسی کو کچھ دے دیتا ہے تو اس کی بلند شان کے خلاف ہے کہ واپس لے۔تزکیہ وہی ہے جو انبیاء علیہم الصلوٰۃو السلام کے ذریعہ دنیا میں سکھایا گیا، پیدا کیا گیا۔یہ لوگ اس سے بہت دور ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں سارے دن میں چار دفعہ دم لیتا ہوں بعض فقط ایک یا دو دفعہ اس سے لوگ ان کو ولی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایسی واہیات دم کشی کو باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔حالانکہ فخر کے قابل یہ بات ہے کہ انسان مرضیاتِ الٰہی پر چل کر اپنے پیغمبر نبی کریمؐ سے صلح و آشتی پیدا کرے جس سے کہ وہ انبیاء کا وارث کہلائے اور صلحاء وابدال میں داخل ہو۔اسی توحید کو پکڑے اور اس پر ثابت قدم رہے اللہ تعالیٰ اپنا غلبہ و عظمت اس کے دل پر بٹھادے گا۔وظیفوں کے ہم قائل نہیں۔یہ سب منتر جنتر ہیں جو ہمارے ملک کے جوگی ہندو سنیاسی کرتے