ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 147

ضعفِ بشریت سے سہوو گناہ کر بیٹھتا ہے اور پھر ذرّہ بھی اس کی پروا نہیں کرتا تو دل پر سیاہ زنگ بیٹھ جاتا اور رفتہ رفتہ قلب انسانی کہ خشیتِ الٰہی سے گداز اور شفاف تھا سخت اور سیاہ ہوتا جاتا ہے۔۱ مگر جونہی انسان اپنی مرضِ قلب کو معلوم کرکے اس کی اصلاح کے در پے ہوتا ہے اور شب وروز نماز میں دعائیں، استغفار وزاری وقلق جاری رکھتا ہے اور اس کی دعائیں انتہاکو پہنچتی ہیں تو تجلیاتِ الٰہی اپنے فضل کے پانی سے اس ناپاکی کو دھو ڈالتی ہیں اور انسان بشرطیکہ ثابت قدم رہے ایک قلب لے کر نئی زندگی کا جامہ پہن لیتا ہے گویا کہ اس کا تولد ثانی ہوتا ہے۔دو زبر دست لشکر ہیں جن کے درمیان انسان چلتا ہے ایک لشکر رحمٰن کا دوسرا شیطان کا۔اگر یہ لشکر رحمن کی طرف جھک جاوے اور اس سے مدد طلب کرے تو اس سے بحکمِ الٰہی مدد دی جاتی ہے اور اگر شیطان کی طرف رجوع کیا تو گناہوں اور مصیبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔۲ پس انسان کو چاہیے کہ گناہ کی زہریلی ہوا سے بچنے کے لئے رحمٰن کی حفاظت میں ہوجاوے۔وہ چیز جو انسان اور رحمٰن میں دُوری اور تفرقہ ڈالتی ہے وہ فقط گناہ ہی ہے جو اس سے بچ گیا اس نے اللہ تعالیٰ کی گود میں پناہ لی۔دراصل گناہ سے بچنے کے لیے دوہی طریق ہیں۔اوّل یہ کہ انسان خود کوشش کرے۔۳ دوسرے اللہ تعالیٰ سے جو زبردست مالک و قادر ہے استقامت طلب کرے یہاں تک کہ اسے پاک زندگی میسر آوے اور یہی تزکیہ نفس کہلاتا ہے۔۱ اَورادو وَظائف اور بندوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعامات و اکرامات ہوتے ہیں وہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہی ہوتے ہیں۔پیروں، فقیروں، صوفیوں گدی نشینوں کے خود تراشیدہ درود، وظائف، طریق و رسومات سب فضول بدعات ہیں جو ۱ البدر میں ہے۔’’اسی کا نام تزکیہ نفس ہے جب یہ ہوجاتا ہے تو انسان فلاح پاتا ہے اور اپنے سلوک کا انتہا کر دیتا ہے اس کے علاوہ اَور جو انعامات اور اکرامات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آدمی کو ملتے ہیں وہ سب اس کے فضل سے مل سکتے ہیں۔جیسے بنیا ہر روز اپنی کتاب پر حساب لکھتا ہے اور اسے کبھی نہیں بھولتا۔اسی طرح مومن کو چاہیے کہ ہر وقت اپنا حساب یاد رکھے اور جب گناہ سر زد ہو تو اس سے کشتی کرے اور ہر وقت اس فکر میں رہے کہ گناہ سے بچایا جاوے اس طریق سے انسان گناہ سے بچ سکتا ہے۔‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۲۰ مورخہ ۵؍جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵۳)