ملفوظات (جلد 5) — Page 144
قریب ہیں۔اس قوم کا اقبال اب بڑھ رہا ہے اور مسلمانوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ دن بدن گرتے جاتے ہیں اور وہ منتظر ہیں کہ مسیحؑ اور مہدی ؑ آتے ہی تلوار اٹھا لیوے گا اورخون کی ندیاں بہادے گا۔کمبخت دیکھتے نہیں کہ مسلمانوں کے پاس نہ تو فنونِ حرب ہیں نہ ان کے پاس ایجاد کی طاقت ہے نہ استعمال کی استعداد ہے۔جنگی طاقت نہ بحری ہے نہ بری تو یہ زمانہ ان کے منشا کے موافق کیسے ہوسکتا ہے اورنہ خدا کا یہ ارادہ ہے کہ جنگ ہو، کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ انہیں کو یہ سمجھ دے دیوے کیونکہ فہم، دماغ اور اقبال کے ایام انہیں کے اچھے ہیں اصل علم وہی ہے جو خدا کے پاس ہے زمانہ وہی ہے جس کا وعدہ تھا مسلمانوں کو دیکھتے ہیں کہ نکمے، فاسق، فاجراور کاہل بھی ہیں تو پھر بجز اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ خدا اسی گروہ میں سے ایسے پیدا کر دے کہ وہ خود ہی سمجھ جاویں۔خدا تعالیٰ کو توپ اور بندوق کی کیا حاجت ہے اس نے بندوں میں ہدایت پھیلانی ہے یا ان کو قتل کرنا ہے؟ زمانہ کی موجودہ حالت خود دلالت کرتی ہے کہ یہ زمانہ علمی رنگ کا ہے اگر کسی کو مارمار کر سمجھا ؤ بھی تووہ بات دل میں نہیں بیٹھتی لیکن اگر دلائل سے سمجھایا جاوے تو وہ دل پر تصرف کرکے اس میں دھس جاتی ہے اور انسان کو سمجھ آ جاتی ہے۔آنحضرت کے زمانہ کی حالت اور تھی اس وقت لوہے سے اور طرح کام لیا گیا تھا اب ہم بھی لوہے سے ہی کام لے رہے ہیں مگر اور طرح سے کہ لوہے کے قلموں سے رات دن لکھ رہے ہیں۔میری رائے یہی ہے کہ تلوار کی اب کوئی ضرورت نہیں۔عیسائی بھی جہالت میں ڈوبے ہیں اور مسلمان بھی۔حکمت الٰہی چاہتی ہے کہ رفق اور محبت سے سمجھایا جاوے مثلاً ایک ہندو ہے اگر دس بیس مسلمان ڈنڈے لے کر اس کے پیچھے پڑجاویں تووہ ڈر کے مارے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ تو کہہ دے گا لیکن اس کا کہنا ایسا بودا ہوگا کہ بالکل مفید نہیں ہوسکتا اور رفق اور محبت سے سمجھا یا جاوے تووہ دل میں جم جاوے گا حتی کہ اگر اس کو زندہ آگ میں بھی پھونک دوتو بھی وہ اس کے کہنے سے باز نہ آوے گا۔اَسْلَمْنَا(الـحجرات:۱۵) ہمیشہ لاٹھی سے ہوتا ہے اور اٰمَنَّا اس وقت ۱البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۹ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۶،۱۴۷