ملفوظات (جلد 5) — Page 143
۱۸؍مئی ۱۹۰۳ء (مجلس قبل ازعشاء) قرآن کی ایک پیشگوئی کا پورا ہو نا اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا(بنی اسـرآءیل:۵۹) کوئی ایسا گاؤں نہیں مگر روز قیامت سے پہلے پہلے ہم اس کو ہلاک کرکے رہیں گے یا اس کو سخت عذاب دیویں گے قرآن میں یہ ایک پیشگوئی ہے۔فرمایا کہ یہ اب پنجاب پر بالکل صادق آرہی ہے بعض گاؤں تواس سے بالکل تباہ ہوگئے ہیں اور بعض جگہ بطور عذاب کے طاعون جا کر پھر ان کو چھوڑ دیتی ہے۔قوم کی حالت امریکہ اور یورپ کے بلاد میں حضرت مسیحؑ کی نسبت جوایک انقلاب عظیم خیالات میں ہورہا ہے اور جس کا ذکر ہم ’’البدر‘‘ کے ایک آرٹیکل بعنوان ’’کسر صلیب کا دروازہ کھل گیا ہے ‘‘ کر چکے ہیں اس پر ذکر ہوتے ہوئے فرمایاکہ لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ(الملک:۱۱) سے معلوم ہوتا ہے کہ سماع اور عقل انسان کو ایمان کے واسطے جلد تیار کر دیتی ہے۔ہماری قوم میں نہ سماع ہے نہ عقل ہے۔دل میں یہی ٹھانی ہوئی ہے کہ تردید کریں پیشگوئیوں کو جھوٹا ثابت کریں نص اور اخبار کی تکذیب کریں۔کشوف وغیرہ جو اولیائے کرام کے ہماری تائید میں ہیں ان سب کو جھوٹا کہہ دیں۔غرضیکہ یہ سماع کا حال ہے۔اب عقل کا سن لوکہ نظائر پیش نہیں کرسکتے کہ کوئی اس اَمر کا ثبوت دیں کہ سوائے مسیح کے اور بھی کچھ آدمی زندہ آسمان پر گئے ایک بات کو دیکھ کر دوسری کو پیدا کرنااس کا نام عقل ہے سواس کو انہوں نے ہاتھ سے دے دیا ہے دونوں طریق (سماع اور عقل ) قبولِ حق کے تھے سووہ دونوں کھو بیٹھے مگر یہ لوگ (اہل امریکہ و یورپ) غور کرتے ہیں اگرچہ سب نہیں کرتے مگر ایسے پائے تو جاتے ہیں جو کرتے ہیں جس حال میں کہ وہ مانتے ہیں کہ مسیحؑ کے دوبارہ آنے کا زمانہ یہی ہے اور اس کی موت کے بھی قائل ہیں تودیکھ لو کہ وہ لوگ کس قدر