ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 140

کرے گا؟ چنا نچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الْجَمَلُ فِيْ سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف:۴۱) یعنی کفّار جنّت میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گذر نہ جائے۔مفسرین اس کا مطلب ظاہر ی طور پر لیتے ہیں مگر میں یہی کہتا ہوں کہ نجات کے طلبگار کو خدا کی راہ میں نفس کے شتر بے مہار کو مجاہدات سے ایسا دبلا کر دینا چاہیے کہ وہ سوئی کے ناکہ میں سے گذر جائے جب تک نفس دنیوی لذائذ و شہوانی حظوظ سے موٹا ہوا ہوا ہے تب تک یہ شریعت کی پاک راہ سے گذر کر بہشت میں داخل نہیں ہوسکتا۔دنیوی لذّات پر موت وارد کرو اور خوف وخشیت الٰہی سے دبلے ہو جاؤ تب تم گذرسکو گے اور یہی گذرنا تمہیں جنّت میں پہنچا کر نجات اخروی کا موجب ہوگا۔۱ (مجلس قبل ازعشاء ) پابندی رسوم کا اثر ایمان پر فرمایا۔قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ( اٰل عـمران:۳۲) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں کوئی مَر جاتا ہے توقِسم قِسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ چاہیے کہ مُردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجاآوری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی۔فرمایا کہ انسان کی وہ غلطی تو معاف ہوسکتی ہے جو کہ یہ نادانی سے کرتا ہے مثلاً آنحضرت کے زمانہ کے بعدفیج اعوج کے زمانہ میں طرح طرح کی غلطیاں پھیل گئیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مسیحؑ فوت نہیں ہوئے اور اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر موجود ہیں۔