ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 135

ملفوظات حضرت مسیح موعود میں ہمارے زمانہ میں پورا ہو رہا ہے ۔ ۱۳ جلد پنجم فرمایا کہ اہل عرب اس قسم کے استثنا کرتے ہیں۔ صرف ونحو ابلیس ملائکہ میں سے نہ تھا میں بھی اگر دیکھا جاوے تو اسے استثنا بکثرت ہوا کرتے ہیں اور ایسی نظیریں موجود ہیں جیسے کہا جاوے کہ میرے پاس ساری قوم آئی مگر گدھا۔ اس سے یہ سمجھنا کہ ساری کی ساری قوم جنس حمار میں سے تھی غلط ہے۔ كَانَ مِنَ الْجِن کے بھی یہ معنے ہوئے کہ وہ فقط ابلیس ہی قوم جن میں سے تھا ملائکہ میں سے نہیں تھا ملائک ایک الگ پاک جنس ہے اور شیطان الگ۔ ملائکہ اور ابلیس کا راز ایسا مخفی در مخفی ہے کہ بجز امنا وَصَدَّقنا کے انسان کو چارہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اقتدار و توفیق نہیں دی مگر وسوسہ اندازی میں وہ محرک ہے جیسے ملائکہ پاک تحریکات کے محرک ہیں ویسے ہی شیطان نا پاک جذبات کا محرک ہے۔ ملائکہ کی منشا ہے کہ انسان پاکیزہ ہو، مطہر ہو اور اس کے اخلاق عمدہ ہوں اور اس کے بالمقابل شیطان چاہتا ہے کہ انسان گندہ اور ناپاک ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ قانون الہی ملائکہ وابلیس کی تحریکات کا دوش بدوش چلتا ہے لیکن آخر کار ارادہ الہی غالب آجاتا ہے۔ گویا پس پردہ ایک جنگ ہے جو خود بخود جاری رہ کر آخر قادر و مقتدر حق کا غلبہ ہو جاتا ہے اور باطل کی شکست ۔ چار چیزیں ہیں جن کی کنہ وراز کو معلوم کرنا انسان کی طاقت سے بالا تر مجہول الکنہ اشیاء ہے۔ اول اللہ جل شانه ، دو روح ہو ملائکہ، چہارم ا لیں ۔جو شخص سوم ان چہاروں میں سے خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل ہے اور اس کی صفات الوہیت پر ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ وہ ہر سہ اشیاء روح و ملائکہ وابلیس پر ایمان لائے مثلاً روح جیسے انسان کے اندر داخل ہوتی معلوم نہیں ہوتی ویسے ہی اس میں سے خارج ہوتی بھی معلوم نہیں کے ہوتی ۔ انسان کو ہر حال ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۴۰ میں ہے کہ سوال ہوا کہ ابلیس ملائکہ سے تھا یا کون؟“ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا ۔ (مرتب) ے البدر سے۔ ” جیسے انڈے کے بیچ میں روح آتی ہے اور بعض وقت بچہ بیچ میں ہی مر کر رہ جاتا ہے اور روح نکل جاتی ہے۔ لیکن معلوم کسی کو نہیں ہوتی پس یہ راز ہوتے ہیں ۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخه ۲۲ رمئی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۴۰)