ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 135

سے راہ راست کی طرف آجاتے ہیں۔مامور کا زمانہ بھی ایک قیامت ہے۔جیسے لوگ یوم جزا کے دن دو فریقوں میں تقسیم ہو جاویں گے یعنی فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ (الشورٰی:۸) ایسے ہی مامور کی بعثت کے وقت بھی دو فریق ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ (اٰل عـمران:۵۶) جیسے تقریباً سات سو برس پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کہا گیا اور مسیح علیہ السلام کے وقت پورا ہو اویسا ہی آپ کے تیرہ سو برس بعد چودھویں صدی میں ہمارے زمانہ میں پورا ہو رہا ہے۔ابلیس ملائکہ میں سے نہ تھا فرمایا کہ۱ اہل عرب اس قسم کے استثنا کرتے ہیں۔صرف و نحو میں بھی اگر دیکھا جاوے تو ایسے استثنا بکثرت ہوا کرتے ہیں اور ایسی نظیریں موجود ہیں جیسے کہا جاوے کہ میرے پاس ساری قوم آئی مگر گدھا۔اس سے یہ سمجھنا کہ ساری کی ساری قوم جنس حمار میں سے تھی غلط ہے۔كَانَ مِنَ الْجِنِّ کے بھی یہ معنے ہوئے کہ وہ فقط ابلیس ہی قوم جنّ میں سے تھا ملائکہ میں سے نہیں تھا ملائک ایک الگ پاک جنس ہے اور شیطان الگ۔ملائکہ اور ابلیس کا راز ایسا مخفی در مخفی ہے کہ بجز اٰمَنَّا وَصَدَّقْنَا کے انسان کو چارہ نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو اقتدار و توفیق نہیں دی مگروسوسہ اندازی میں وہ محرک ہے جیسے ملائکہ پاک تحریکات کے محرک ہیں ویسے ہی شیطان ناپاک جذبات کا محرک ہے۔ملائکہ کی منشا ہے کہ انسان پاکیزہ ہو، مطہر ہو اور اس کے اخلاق عمدہ ہوں اور اس کے بالمقابل شیطان چاہتا ہے کہ انسان گندہ اور ناپاک ہو۔اصل بات یہ ہے کہ قانون الٰہی ملائکہ وابلیس کی تحریکات کا دوش بدوش چلتا ہے لیکن آخر کار ارادہ الٰہی غالب آجاتا ہے۔گویا پس پردہ ایک جنگ ہے جو خود بخود جاری رہ کر آخر قادر ومقتدر حق کا ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخہ ۲۲؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۰ میں ہے کہ ’’ سوال ہواکہ ابلیس ملائکہ سے تھایا کون؟‘‘ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا۔(مرتّب) ۲ البدر سے۔’’جیسے انڈے کے بیچ میں روح آتی ہے اور بعض وقت بچہ بیچ میں ہی مَر کر رہ جاتا ہے اور روح نکل جاتی ہے۔لیکن معلوم کسی کو نہیں ہوتی پس یہ راز ہوتے ہیں۔‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۱۸ مورخہ ۲۲ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴۰)