ملفوظات (جلد 5) — Page 131
چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہو گی۔اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ ( المآئدۃ:۴) اسی دن نازل ہوئی اور دوسری تکمیل کے لیے بالا تفاق مانا گیا ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ہو گی چنا نچہ سب مفسروں نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے جبکہ پہلی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو دوسری تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہو گی اور قرآن شریف میں ایک دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود چھٹے ہزار میں ہوگا۔بلاتاریخ ۱ بہترین دعا بہترین دعا وہ ہوتی ہے جو جامع ہو تمام خیروں کی اور مانع ہو تمام مضرات کی۔اس لیے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دعا میں آدم ؑ سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کل منعم علیہم لوگوں کے انعامات کے حصول کی دعا ہے اور غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ میں ہر قسم کی مضرتوں سے بچنے کی دعا ہے۔چونکہ مغضوب سے مُراد یہود اور ضالین سے مُراد نصاریٰ بالاتفاق ہیں تو اس دعا کی تعلیم کا منشا صاف ہے کہ یہودیوں نے جیسے بے جا عداوت کی تھی مسیح موعود کے زمانہ میں مولوی لوگ بھی ویسا ہی کریں گے اور حدیثیں اس کی تائید کرتی ہیں یہاں تک کہ وہ یہودیوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔بلاتاریخ روح القدس کے فرزند اَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (البقرۃ:۲۵۴) میں مسیحؑ کی کوئی خصوصیت نہیں ہے روح القدس کے فر زند تمام وہ سعادتمند اور راستباز ہیں جن کی نسبت اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ (الـحجر:۴۳) وارد ہے قرآن کریم سے دو قسم کی مخلوق ثابت ہوتی ہے اوّل وہ جو روح القدس کے فرزندہیں دوسرے وہ جو شیطان کے فرزندہیں پس اس میں مسیحؑ کی کوئی خصوصیت نہیں۔۱ یہ ملفوظات بھی ’’الحکم‘ ‘ میں بلاتاریخ شذرات کی صورت میں درج ہیں۔(مرتّب )