ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 130

گویا اس عبادت میں وہی ربوبیت۔رحمانیت، رحیمیت، مالکیت یوم الدین کی صفات کا پر تو انسان کو اپنے اندر لینا چاہیے کیونکہ کمال عابد انسان کا یہی ہے کہ تَـخَلَّقُوْا بِاَخْلَاقِ اللہِ میں رنگین ہو جاوے پس اس صورت میں یہ دونوں اَمر بڑی وضاحت اور صفائی سے بیان ہوئے ہیں۔بلا تاریخ معجزات کے تین اقسام فرمایا۔معجزات تین اقسام کے ہوتے ہیں۔(۱) دعائیہ (۲) ارہاصیہ (۳) قوتِ قدسیہ ارہاصیہ میں دعا کو دخل نہیں ہوتا قوتِ قدسیہ کے معجزات ایسے ہوتے ہیں جیسے رسول اللہ نے پانی میں انگلیاں رکھ دیں اور لوگ پانی پیتے رہے یا ایک تلخ کوئیں میں اپنا لب گرِادیا اور اس کا پانی میٹھا ہو گیا۔مسیحؑ کے معجزات میں بھی یہ رنگ پایا جاتا ہے خود ہم کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔مسیح کے معجزات کے متعلق جو ہم نے عمل الترب کا ذکر کیا ہے اس سے مُراد یہ ہے کہ وہ جو قوتیں اللہ تعالیٰ نے خلقی طو رپر انسان کی فطرت میں ودیعت کی ہیں وہ توجہ سے سرسبز ہوتی ہیں۔رہی یہ بات کہ مسیح کے معجزات کو مکروہ کہا ہے یہ ایسی بات ہے کہ بعض اوقات ایک اَمر جائز ہوتا ہے اور دوسرے وقت نہیں۔۱ بلاتاریخ۲ تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعتِ ہدایت جب ہم اس ترتیب کو دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے دو مقصد ہی بیان فرمائے ہیں تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت اور اوّل الذکر تکمیل ۱الحکم جلد ۷ نمبر ۱۹ مورخہ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۳ ۲ یہ ملفوظات بھی ’’ الحکم‘‘ میں بلاتا ریخ شذرات کی صورت میں درج ہیں۔(مرتّب)