ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 129

دنیاوی معاملات تو الگ ہوتے ہیں لیکن مذہبی معاملات میں شرافت کا بر تاؤ ہو اکرتا ہے۔ان کو لازم تھا کہ ایسی باتیں نہ کرتے جو آپس کی شکر رنجی کا موجب ہوتیں۔اس مینار کی بنیاد پر گیارہ سو روپیہ خرچ آیا ہے اور تین برس سے اس کا ابتدائی کام شروع ہے چنانچہ ’’الحکم‘‘میں اس کا اعلان موجود ہے اگر ہماراچار ہزار روپیہ کا نقصان ہو اور پھر ان کو یہ روپیہ مل جاوے تو بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ خیر ہمسائیوں کو فائدہ پہنچا۔لیکن ابھی تو مینار خیالی پلاؤ ہے جوں جوں روپیہ آوے گا بنتا رہے گا جب وہ مکمل ہو جاوے اور پھر کوئی اعتراض کی بات ہو تو اعتراض ہوسکتا ہے۔میں ایسا فعل کیوں کرنے لگاجس سے اَوروں کو بھی نقصان ہو اور مجھے بھی۔ہماری پردہ داری سب سے اعلیٰ ہے۔اگر کوئی مینار پر چڑھے گا تو جیسے اَوروں کے گھر میں نظر پڑسکتی ہے ویسی ہی ہمارے گھر میں بھی پڑ سکتی ہے تو کیا ہم گوارا کریں گے کہ یہ بات ہو؟ بہرحال جب یہ بن جاوے گا تو لوگ سمجھ لیویں گے کہ ان کو اس سے کس قدر فائدہ ہے۔۱ بلا تاریخ اچھوتا نکتہ عبادت اور احکامِ الٰہی کی دو شاخیں ہیں۔تعظیم لِاَمْرِاللہ اور ہمدردی مخلوق۔میں سوچتا تھا کہ قرآن شریف میں تو کثرت کے ساتھ اور بڑی وضاحت سے ان مراتب کو بیان کیا گیا ہے مگر سورۃ فاتحہ میں ان دونوں شقوں کو کس طرح بیان کیا گیا ہے میں سوچتا ہی تھا کہ فی الفور میرے دل میں یہ بات آئی کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ(الفاتـحۃ:۲تا۴) سے ہی یہ ثابت ہوتا ہے یعنی ساری صفتیں اور تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں جو رب العالمین ہے یعنی ہر عالم میں، نطفہ میں، مضغہ وغیرہ میں سارے عالموں کا ربّ ہے۔پھر رَحْـمٰن ہے پھر رَحِیْم ہے اورمٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ ہے اب اس کے بعد اِيَّاكَ نَعْبُدُ جو کہتا ہے تو ۱البدرجلد ۲ نمبر ۱۸ مورخہ۲۲ ؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ۱۳۸، ۱۳۹