ملفوظات (جلد 5) — Page 111
۴؍مئی ۱۹۰۳ء (بوقتِ سیر) اکرامِ ضیف مہمانوں کے انتظام مہمان نوازی کی نسبت ذکر ہوا۔فرمایا۔میر اہمیشہ خیال رہتا ہے کہ کسی مہمان کو تکلیف نہ ہو بلکہ اس لیے ہمیشہ تاکید کرتا رہتا ہوں کہ جہاں تک ہوسکے مہمانوں کو آرام دیا جاوے مہمان کا دل مثل آئینہ کے نازک ہوتا ہے اور ذرا سی ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔اس سے پیشتر میں نے یہ انتظام کیا ہوا تھا کہ خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھانا کھاتا تھا مگر جب سے بیماری نے ترقی کی اور پرہیز ی کھانا کھانا پڑا تو پھر وہ التزام نہ رہا ساتھ ہی مہمانوں کی کثرت اس قدر ہوگئی کہ جگہ کافی نہ ہوتی تھی اس لیے بمجبوری علیحدگی ہوئی ہماری طرف سے ہر ایک کو اجازت ہے کہ اپنی تکلیف کو پیش کر دیا کرے بعض لوگ بیمار ہوتے ہیں ان کے واسطے الگ کھانے کا انتظام ہوسکتا ہے۔۱ (دربارِ شام ) رسوم وعادات فرمایا کہ۲ عادات اور رسوم کا قلع قمع کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے اور یہی ایک حجاب ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱۷ مورخہ ۱۵ ؍مئی ۱۹۰۳ءصفحہ ۱۳۰ ۲ البدر میں لکھا ہے کہ ’’ایک نوجوان مولوی صاحب کا نپور سے تعلیم پاکر اپنے وطن ڈیرہ غازی خان کی طرف جارہے تھے کہ بعض تحریکات سے ان کو یہ خیال ہوا کہ تحقیق کے لیے قادیان بھی آویں۔چنانچہ وہ تشریف لائے اور اُن کی ملاقات حکیم نورالدین صاحب سے ہوئی۔حکیم صاحب نے ان کو کہا کہ آپ بہت استغفار کرکے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ اَمرِ حق ظاہر کردیوے۔بعد از نماز مغرب حکیم صاحب نے ان کی ملاقات حضرت اقدس ؑ سے کرائی اور عرض کی کہ یہ بعض امور کے جواب طلب کرنا چاہتے ہیں۔اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ’’ انسان نے بعض باتیں بطور رسم وعادت کے اختیار کی ہوئی ہوتی ہیں۔ان کا چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔رسمی خیالات کا وہ پابند ہوتا ہے جب تک انکا قلع قمع نہ کیاجاوے تو حقیقت سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۷مورخہ ۱۵؍مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳۰)