ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 108

ہے دعا بہت کرے دعا کے سوا چا رہ نہیں ہاں یہ اَمرضروری ہے کہ استغنا نہ کرے کہ نیک اور بد کو ایک جیسا جان لیوے اور کہے کہ جیسے برے درخت ہوتے ہیں ویسے ہی اچھے بھی ہوتے ہیں۔یہ ایک قاعدہ اپنی طرف سے ہرگز نہ بنانا چاہیے بلکہ نفس کو یہ سمجھا نا چاہیے کہ اچھے بھی ضرورہیں جب شیطان کا گروہ اس قدر دنیا میں موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا کا گروہ بالکل ہی دنیا میں موجود نہ ہوخدا سے دعا کرتا رہے کہ آنکھیں ملیں۔آج کل واقعہ میں علماء کی یہی حالت ہے۔؎ واعظاں کیں جلوہ بر محراب ومنبر میکنند چوں بخلوت مے روندآں کار دیگر میکنند حافظ نے بھی اسی مضمون کا ایک شعر لکھا ہے۔ع توبہ فرمایاں چرا خود توبہ کمتر میکنند اور غور سے دیکھا جاوے تو سچے کے بغیر جھوٹ کی کچھ روشنی ہی نہیں ہوتی اگر آج سچا سوناچا ندی نہ ہو تو جھوٹے سونے چاندی سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے۔انبیاء و مامورین کی عظمت و صداقت جس قدر انبیاء ہوئے ہیں سب اکراہ سے آگے ہوئے ہیں۔گروہوں اور مجلسوں سے ان کی طبیعت متنفر ہوتی ہے۔انبیاء میں انقطاع اور اخلاص کا مادہ بہت ہوتا ہے۔ان کی بڑی آرزو ہوتی ہے کہ لوگ ان کی طرف رجوع نہ کریں مگر چونکہ خدا نے فطرت ایسی دی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ بڑے بڑے کام کریں۔اس لیے ان کی عظمت جس قدر دنیا میں پھیلتی ہے وہ مکائدسے ہرگز نہیں پھیلتی بلکہ خود خدا پھیلاتا ہے۔ان کے مقابل کے کل مکائد پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ان کے کام میں اعجاز اور پیشگوئیاں بے نظیر ہوتی ہیں اگر معجزات نہ ہوں تو طبائع پر بہت مشکلات پڑتے کیسی ہی طبیعت کثیف ہو مگر ان کو دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہوجاتے ہیں۔ایک مخالف کا میرے پاس خط آیا کہ میں آپ کا مخالف ہوں مگر آج کل مجھے یہ حیرانی ضرور ہے کہ اگر آپ جھوٹے ہیں تو اس قدر کامیابی اور ترقی کیوں ہے۔دنیا میں وہ انسان اندھا ہے جو مختصر تجارب سے نتیجہ نکالتا ہے مگر سچا نتیجہ اس وقت نکلتا ہے جب