ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 100 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 100

اے عمر ؓ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کو نہیں دیکھتا یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے وہ کا غذ اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور اس طرح پر غیرت ِنبوی کاادب کیا بھلا جب ایک چھوٹی سی بات کے لیے آپ کا چہرہ غیرت سے سرخ ہو گیا تھا تو کیا اگر وہی مسیحؑ جو بنی اسرائیل کا آخری رسول تھا اگر آپ کی اُمّت کی اصلاح اور آپ کی ختمِ نبوت کی مہر کو توڑ نے کے واسطے آجاوے گا تو آپ کو غیرت نہ آئے گی؟ اور کیا خدا تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدرہتک کرنی چاہتا ہے؟ افسوس ہے یہ لوگ مسلمان کہلا کر اور آپ کا کلمہ پڑھ کر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کرتے ہیں اور آپ کو خاتم النّبیّین مان کر پھر آپ کی مہر کو توڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر بھی الزام لگاتے ہیں کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس قدر تعریفوں کے بعد جو قرآن شریف میں آپ کی کی گئی ہیں آپ سے یہ سلوک کرے معاذاللہ۔ایک غلو کا جواب شیعہ لوگوں کے ذکر پر فرمایاکہ ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رحم آتا ہے کہ اگر حضرت حسینؓکی ایسی ہی شان اور عظمت تھی جو یہ بیان کرتے ہیں اورکل نبیوں کی نجات ان کی ہی شفا عت سے ہوئی ہے تو پھر تعجب ہے کہ قرآن شریف میں آپ کا نام ایک مر تبہ بھی اللہ تعالیٰ نے نہ لیا۔زیدؓ جو ایک معمولی صحابی تھے ان کا نام تو قرآن نے لے لیا مگر امام حسینؓ کا جو ایسے جلیل القدر منجی اور کل انبیاء علیہم السلام کے شفیع تھے ان کا نام بھی قرآن شریف نے نہ لیا۔کیا قرآن شریف کو بھی ان سے کچھ عداوت تھی؟ اگر کوئی یہ کہے کہ قرآن شریف میں (جیسا کہ شیعہ کہہ دیتے ہیں۔ایڈیٹر) تحریف ہو گئی ہے۱ اور آپ کا نام بھی محرف مبدل ہو گیا ہوگا تو یہ الزام بھی ان ہی کی گردن پر ہے کیونکہ جن کی طرف یہ تحریف منسوب کی جاتی ہے ان کی وفات کے بعد جناب علیؓ تو زندہ تھے اور وہ اپنے وقت کے مقتدر خلیفہ تھے شیر خدا تھے جب ان کو یہ معلوم تھا کہ اس قرآن میں تحریف کی گئی ہے تو کیوں انہوں نے اس ۱ البدر سے۔’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت کب تقاضا کرتی ہے کہ آپ کی کُرسی پر دوسرا بیٹھے اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف کرے اور آپ کا درجہ بلند کرکے آپ کو ہر طرح کے سُکھ اور آرام کا مالک بنا دے اور آخر میں آکر یہ دکھ دیوے کہ آپ کی کُرسی پر غیر کو بیٹھا دیوے یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔‘‘ (البدر جلد۲نمبر ۱۶مورخہ ۸؍مئی۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲۲)