ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 97

حج نہ کرنے پر اعتراض کا جواب مخالفوں کے اس اعتراض پر کہ حضرت مرزا صاحب حج کیوں نہیں کرتے۔فرمایا۔کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ جو خدمت خدا نے اوّل رکھی ہے اس کو پس انداز کرکے دوسرا کام شروع کر دیوے یہ یادرکھنا چاہیے کہ عام لوگوں کی خدمات کی طرح ملہمین کی عادت کام کرنے کی نہیں ہوتی وہ خدا کی ہدایت اور راہنمائی سےہر ایک اَمر کو بجا لاتے ہیں اگرچہ شرعی تمام احکام پر عمل کرتے ہیں مگر ہر ایک حکم کی تقدیم وتاخیر الٰہی ارادہ سے کرتے ہیں اب اگر ہم حج کو چلے جاویں تو گویا اس خدا کے حکم کی مخالفت کرنے والے ٹھہریں گے اور مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ( اٰل عـمران:۹۸) کے بارے میں کتاب حجج الکرامہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اگر نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو حج سا قط ہے حالانکہ اب جو لوگ جاتے ہیں ان کی کئی نمازیں فوت ہوتی ہیں مامورین کا اوّل فرض تبلیغ ہوتا ہے آنحضرتؐ ۱۳ سال مکہ میں رہے آپؐنے کتنی دفعہ حج کئے تھے؟ ایک دفعہ بھی نہیں کیا تھا۔حضرت عیسیٰ کی بے باپ پیدائش سوال۔کیا قرآن میں کوئی صریح آیت ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیحؑ بلاباپ کے پیدا ہوئے تھے؟ جواب۔فرمایا کہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کوایک جاجمع کرنا اس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام کی پیدا ئش خوارق طریق سے ہے۱ ویسے ہی مسیحؑ کی بھی ہے پھر یحییٰ علیہ السلام کی پیدا ئش کا حال بیان کرکے مسیحؑ کی پیدا ئش کا حال بیان کیا ہے یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے یعنی جس قدر معجزنما ئی کی قوت یحییٰ کی پیدا ئش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدا ئش میں ہے اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحییٰ کی پیدا ئش کا ذکر کرکے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑدیا؟ اس سے کیا فائدہ تھا؟ یہ اسی لیے کیا کہ تأویل کی گنجائش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جا ذکر ہونا اعجازی اَمر کو ثابت کرتے ہیں اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے۔پھر اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ (اٰل عـمران:۶۰) اگر مسیحؑ بنا باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہوئی اور وہ کیا اعتراض مسیحؑ پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا؟ توار یخی بات بھی یہ ہے کہ یہود آپ کی پیدا ئش کو اسی لیے ناجائز قرار دیتے تھے کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہوا تھا بلکہ بلا ماں بھی بہ اعتبار واقعات کے جواعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چاہیے اور اگر کوئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تو اوّل قانون قدرت کی حد بست دکھلا وے۔۱ ۱ ’’ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام بہت ہی بوڑھے تھے اور ان کی بیوی بانجھ تھی۔‘‘ (الحکم جلد۷نمبر ۱۸مورخہ ۱۷ مئی۱۹۰۳ء صفحہ ۲)