ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 98 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 98

جواب۔فرمایا کہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قصہ کوایک جاجمع کرنا اس اَمر پر دلالت کرتا ہے کہ جیسے یحییٰ علیہ السلام کی پیدا ئش خوارق طریق سے ہے۱ ویسے ہی مسیحؑ کی بھی ہے پھر یحییٰ علیہ السلام کی پیدا ئش کا حال بیان کرکے مسیحؑ کی پیدا ئش کا حال بیان کیا ہے یہ ترتیب قرآنی بھی بتلاتی ہے کہ ادنیٰ حالت سے اعلیٰ حالت کی طرف ترقی کی ہے یعنی جس قدر معجزنما ئی کی قوت یحییٰ کی پیدا ئش میں ہے اس سے بڑھ کر مسیح کی پیدا ئش میں ہے اگر اس میں کوئی معجزانہ بات نہ تھی تو یحییٰ کی پیدا ئش کا ذکر کرکے کیوں ساتھ ہی مریم کا ذکر چھیڑدیا؟ اس سے کیا فائدہ تھا؟ یہ اسی لیے کیا کہ تأویل کی گنجائش نہ رہے ان دونوں بیانوں کا ایک جا ذکر ہونا اعجازی اَمر کو ثابت کرتے ہیں اگر یہ نہیں ہے تو گویا قرآن تنزل پر آتا ہے جو کہ اس کی شان کے برخلاف ہے۔پھر اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ (اٰل عـمران:۶۰) اگر مسیحؑ بنا باپ کے نہ تھا تو آدم سے مماثلت کیا ہوئی اور وہ کیا اعتراض مسیحؑ پر تھا جس کا یہ جواب دیا گیا؟ توار یخی بات بھی یہ ہے کہ یہود آپ کی پیدا ئش کو اسی لیے ناجائز قرار دیتے تھے کہ آپ کا باپ کوئی نہ تھا اس پر خدا نے یہود کو جواب دیا کہ آدم بھی تو بلا باپ پیدا ہوا تھا بلکہ بلا ماں بھی بہ اعتبار واقعات کے جواعتراض ہوا کرتے ہیں ان سے جواب کو دیکھنا چاہیے اور اگر کوئی اسے خلاف قانون قدرت قرار دیتا ہے تو اوّل قانون قدرت کی حد بست دکھلا وے۔۱ یکم مئی۱۹۰۳ء (دربارِ شام) ایک رئویا فرمایا کہ ایک رئو یا تھی تو وحشت ناک مگر اللہ تعالیٰ نے ٹال ہی دیا۔دیکھا کہ کوئی شخص کہتا ہے کہ بیل کو میدان میں ذبح کریں گے۔مگر عملی کارروائی نہ ہوئی۔ذبح نہ ہوا کہ جاگ آگئی۔آنحضرت کی قبر میں مسیح موعود کے دفن ہونے کا سرّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ مسیح موعود کی قبر میری قبر میں ہو گی۔اس پر ہم نے سوچا کہ یہ کیا سِر ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہر ایک قسم کی دُوری اور دُوئی کو دور کرتا ہے اور اس سے اپنے اور مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کیا ہے اور ظاہر کردیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے بلکہ مسیح موعود کاآنا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔اگر کوئی اور شخص آتا تو اس سے دُوئی لازم آتی اور عزّتِ نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔بروز میں دُوئی نہیں ہوتی اگر کوئی غیرشخص آجاوے توغیرت ہوتی ہے لیکن جب وہ خود ہی آوے تو پھر غیرت کیسی! اس کی مثال ایسی ہے کہ اگر ایک شخص