ملفوظات (جلد 4) — Page 86
ِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ(التّوبۃ: ۱۰۳) تیری صلوٰۃ سے ان کو ٹھنڈ پڑ جاتی ہے اور جوش و جذبات کی آگ سرد ہو جاتی ہے۔دوسری طرف فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ ( البقرۃ: ۱۸۷) کا بھی حکم فرمایا۔ان دونوں آیتوں کے ملانے سے دعا کرنے اور کرانے والے کے تعلقات، پھر ان تعلقات سے جو نتائج پیدا ہوتے ہیں ان کا بھی پتا لگتا ہے کیونکہ صرف اسی بات پر منحصر نہیں کر دیا کہ آنحضرتؐکی شفاعت اور دعا ہی کافی ہے اور خود کچھ نہ کیا جاوے اور نہ یہی فلاح کا باعث ہوسکتا ہے کہ آنحضرتؐکی شفاعت اور دعا کی ضرورت ہی نہ سمجھی جاوے۔غرض نہ اسلام میں رہبانیت ہے نہ بے کار نشینی کا سبق۔بلکہ ان افراط اور تفریط کی راہوں کو چھوڑ کر وہ صراطِ مستقیم کی ہدایت کرتا ہے نہ یہ چاہا ہے کہ تعذیب جسم کے اصولوں کو اختیار کرو اور اپنے آپ کو مشکلات میں ڈال لو اور نہ یہ کہ سارا دن کھیل اور کود اور تماشوں اور شکار میں گذارو یا ناول خوانی میں بسر کرو اور رات کو سو کر یا عیاشی میں۔۱ خد اتعالیٰ کا قرب پانے کی راہ خدا تعالیٰ کے قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اس کے لئے صدق دکھایا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اس کی وجہ یہی تھی۔چنانچہ فرمایا ہے اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى (النّجم: ۳۸) ابراہیم ؑ وہ ابراہیمؑ جس نے وفاداری دکھائی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت کو چاہتا ہے جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو طیار نہ ہو جاوے اور اس کی ہر ذلّت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو طیار نہ ہو یہ صفت پیدا نہیں ہوسکتی۔بُت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اﷲ تعالیٰ کے قرب سے روکتی اور اس پر مقدم ہوتی ہے وہ بُت ہے اور اس قدر بُت انسان اپنے اندر رکھتا ہے کہ اس کو پتا بھی نہیں لگتا کہ میں بُت پرستی کر رہا ہوں۔پس جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اس کی راہ میں ہر مصیبت کو برداشت کرنے کے لئے طیار نہیں ہوتا صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔ابراہیم علیہ السلام کوجو یہ خطاب ملا کیا یہ یونہی مل گیا تھا؟ نہیں۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۹ مورخہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ تا ۳