ملفوظات (جلد 4) — Page 83
معراج سمجھتا تھا۔مگر اسلام نے اس کو رد کیا اور انسان کو بے قید بنانا نہ چاہا کہ وہ نہ نماز کی ضرورت سمجھے نہ روزہ کی۔غرض کسی پابندی کے نیچے ہی نہیں رہے اور ایک وحشی جانور کی طرح مارا مارا پھرے۔اب تک بھی یہ لوگ موجود ہیں۔وجودی مذہب جو بدقسمتی سے پھیلا ہوا ہے دراصل ایک اباحتی فرقہ ہے اور نماز روزہ کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتا اور ممنوعات اور محرمات سے پرہیز نہیں کرتا۔اس لئے اسلام نے یہ بھی جائز نہ رکھا۔عقیدہ کفارہ کے نقصانات رہبانیت اور اباحت انسان کو اس صدق اور وفا سے دور رکھتے تھے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔اس لئے ان سے الگ رکھ کر اطاعت الٰہی کا حکم دے کر صدق اور وفا کی تعلیم دی جو ساری روحانی لذتوں کی جاذب ہیں۔یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص کسی سہارے پر چلتاہے وہ سست الوجود اور کاہل ہوتا ہے جیسے بچے اپنے والدین کی سرپرستی کے نیچے اپنی فکر معاش یا ضروریات کے پیدا کرنے سے کاہل اور لاپروا ہوتے ہیں۔یا عیسائی لوگ جس طرح پر اعمال میں مستعد نہیں ہوسکتے کیونکہ کفارہ کا مسئلہ جب ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیح نے ان کے سارے گناہ اٹھالئے۔پر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سی چیز ہوسکتی ہے جو ان کو اعمال کی طرف متوجہ کرے۔اعمال کا مدعا تو نجات ہے اور یہ ان کو بلا مشقت ومحنت صرف خونی مسیح پر اتنا ایمان رکھنے سے (کہ وہ ہمارے لئے مَر گیا۔ہمارے گناہوں کے بدلہ لعنتی ہوا) مل جاتی ہے تو اب نجات کے سوا اور کیا چاہیے؟ پھر ان کو اعمال حسنہ کی ضرورت کیا باقی رہی۔اگر کفارہ پر ایمان لا کر بھی نجات کا خطرہ اور اندیشہ باقی ہے تو یہ اَمر دیگر ہے کہ اعمال کئے جائیں لیکن اگر نجات خونِ مسیح کے ساتھ ہی وابستہ ہے تو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ پھر ضرورت اعمال کی کیا باقی ہے؟ روافض بھی سہارے ہی پر چلتے ہیں اور اپنی جگہ عیسائیوں کی طرح امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ان کے نزدیک اگر اعمال کی کوئی ضرورت ہے تو فقط اتنی کہ ان کے مصائب کو یاد کرکے آنکھوںسے آنسوں گرا لئے یا کچھ سینہ کوبی کرلی۔سارے اعمال حسنہ کی