ملفوظات (جلد 4) — Page 75
جس کا نتیجہ ناکامی اور نامرادی ہو گیا ہے اور اس نامرادی نے یہاں تک بُرا اثر پہنچایا ہے کہ پھر دعا کی تاثیرات کا انکار شروع ہوا۔اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ پھر خد اکا بھی انکار کر بیٹھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ اگر خدا ہوتا اور وہ دعائوں کو قبول کرنے والا ہوتا تو اس قدر عرصہ دراز تک جو دعا کی گئی ہے کیوں قبول نہ ہوئی؟ مگر ایسا خیال کرنے والا اور ٹھوکر کھانے والا انسان اگر اپنے عدم استقلال اور تلوّن کو سوچے تو اسے معلوم ہو جائے کہ یہ ساری نامرادیاں اس کی اپنی ہی جلد بازی اور شتاب کاری کا نتیجہ ہیں جن پر خدا کی قوتوں اور طاقتوں کے متعلق بدظنی اور نامراد کرنے والی مایوسی بڑھ گئی۔پس کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔دعا کی ایسی ہی حالت ہے جیسے ایک زمیندار باہر جا کر اپنے کھیت میں ایک بیج بو آتا ہے۔اب بظاہر تو یہ حالت ہے کہ اس نے اچھے بھلے اناج کو مٹی کے نیچے دبا دیا۔اس وقت کوئی کیا سمجھ سکتا ہے کہ یہ دانہ ایک عمدہ درخت کی صورت میں نشو و نما پا کر پھل لائے گا۔باہر کی دنیا اور خود زمیندار بھی نہیں دیکھ سکتا کہ یہ دانہ اندر ہی اندر زمین میں ایک پودہ کی صورت اختیار کر رہا ہے۔مگر حقیقت یہی ہے کہ تھوڑے دنوں کے بعد وہ دانہ گل کر اندر ہی اندر پودا بننے لگتا ہے اور طیار ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا سبزہ اوپر نکل آتا ہے اور دوسرے لوگ بھی اس کو دیکھ سکتے ہیں۔اب دیکھو! وہ دانہ جس وقت سے زمین کے نیچے ڈالا گیا تھا دراصل اسی اشاعۃ سے وہ پودا بننے کی تیاری کرنے لگ گیا تھا۔مگر ظاہر بین نگاہ اس سے کوئی خبر نہیں رکھتی اور اب جب کہ اس کا سبزہ باہر نکل آیاتو سب نے دیکھ لیا۔لیکن ایک نادان بچہ اس وقت یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کو اپنے وقت پر پھل لگے گا۔وہ یہ چاہتا ہے کہ کیوں اسی وقت اس کو پھل نہیں لگتا مگر عقلمند زمیندار خوب سمجھتا ہے کہ اس کے پھل کا کون سا موقع ہے۔وہ صبرسے ان کی نگرانی کرتا اور غور پرداخت کرتا رہتا ہے اور اس طرح پر وہ وقت آجاتا ہے کہ جب اس کو پھل لگتا اور وہ پک بھی جاتا ہے۔یہی حال دعا کا ہے اور بعینہٖ اسی طرح دعا نشوونما پاتی اور مثمر بثمرات ہوتی ہے۔جلدباز پہلے ہی تھک کر رہ جاتے ہیں اور صبر کرنے والے مآل اندیش استقلال کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور اپنے مقصد کو پالیتے ہیں۔