ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 74

بالکل اجنبیت ہو گئی ہے۔بعض ایسے ہیں جو سرے سے دعا کے منکر ہیں۔اور جو دعا کے منکر تو نہیں ان کی حالت ایسی ہو گئی ہے کہ چونکہ ان کی دعائیں بوجہ آداب الدعا سے ناواقفیت کے قبول نہیں ہوتی ہیں کیونکہ دعا اپنے اصلی معنوں میں دعا ہوتی ہی نہیں اس لئے وہ منکرین دعا سے بھی گری ہوئی حالت میں ہیں۔ان کی عملی حالت نے دوسروں کو دہریت کے قریب پہنچا دیا ہے۔دعا کے لئے سب سے اوّل اس اَمر کی ضرورت ہے کہ دعا کرنے والا کبھی تھک کر مایوس نہ ہو جاوے اور اﷲ تعالیٰ پر یہ سوء ظن نہ کر بیٹھے کہ اب کچھ بھی نہیں ہوگا۔بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ اس قدر دعا کی گئی ہے کہ جب مقصد کا شگوفہ سر سبز ہونے کے قریب ہوتا ہے دعا کرنے والے تھک (بقیہ حاشیہ) سیر ملتوی رہی۔’’الحکم‘‘ میں ۷؍ جنوری کی سیر کی جو ڈائری چھپی ہے۔اس میں تو ذکر نہیں لیکن البدر میں سیر کی ڈائری میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ حضور نے فرمایا کہ ’’اب دو تین دن سیر بند رہے گی کیونکہ آج کل بارشیں نہیں ہوئیں۔اس لئے راستہ میں خاک بہت اڑتی ہے اور اسی سے میں بیمار بھی ہوگیا تھا۔‘‘(البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۶ ) اس کے بعد ۲۴؍ جنوری کو مغرب کے بعد جب حضور علیہ السلام مجلس میں تشریف فرما ہوئے تو فرمایا۔’’اب بارش ہونے کی وجہ سے گردو غبار کم ہوگیا ایک دو دن ذرا باہر ہو آویں (یعنی سیر کو جایا کریں)۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۶) اس سے معلوم ہوگیا کہ اس عرصہ میں حضور علیہ السلام سیر کے لئے تشریف نہیں لے گئے اور جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔’’الحکم‘‘ اور ’’البدر‘‘ دونو میں اس عرصہ میں سیر کا کوئی ذکر نہیں اور نہ سیر کی کوئی ڈائری ہے۔حالانکہ باقی اوقات کی ڈائریاں ان ایام کی موجود ہیں۔نیز ان ایام میں حضور علیہ السلام کتاب ’’مواہب الرحمٰن‘‘ کی تصنیف میں بے حد مصروف تھے۔۱۴؍ جنوری کو فجر کی نماز کے وقت حضور نے فرمایا ’’میں کتاب تو ختم کر چکا ہوں۔رات آدھی رات تک بیٹھا رہا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴ ) اور ۱۵؍جنوری کو فجر کی نماز کے وقت تشریف لائے تو فرمایا ’’رات تین بجے تک جاگتا رہا تو کاپیاں اور پروف صحیح ہوئے۔‘‘ اور پھر فرمایا کہ ’’میرے اعضا تو بے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴ ) نیز (الحکم جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۷؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۳ ) اور پھر اسی روز ظہر کے وقت ظہر و عصر کی نمازیں جمع ادا فرما کر حضور جہلم کےلئے روانہ ہوئے۔یہ سب قرائن بتا تے ہیں کہ ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو حضور سیر کےلئے تشریف نہیں لے گئے۔یہ ڈائری یقیناً کسی گذشتہ تاریخ کی ہے جس پر سہواً ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۳ء کی تاریخ لکھی گئی ہے۔( مرتّب) گئے ہیں۔