ملفوظات (جلد 4) — Page 73
طبیعت علیل تھی وہ بھی جاگتے رہے۔وہ اس وقت تشریف نہیں لا سکیں گے۔یہ بھی ایک جہاد ہی تھا۔(رات کو انسان کو جاگنے کا اتفاق تو ہوا کرتا ہے مگر کیا خوش وہ وقت ہے جو خد اکے کام میں گذارے ) ایک صحابی کا ذکر ہے کہ وہ جب مَرنے لگے تو روتے تھے۔ان سے پوچھا گیا کہ کیا موت کے خوف سے روتے ہو؟ کہا موت کا کوئی خوف نہیں مگر یہ افسوس ہے کہ یہ وقت جہاد کا نہیں ہے۔جب میں جہاد کیا کرتا تھا اگر اس وقت یہ موقع ہوتا تو کیا خوب تھا۔فرمایا کہ میرے اعضا توبے شک تھک جاتے ہیں مگر دل نہیں تھکتا۔وہ چاہتا ہے کہ کام کئے جائو۔مولوی ثناء اﷲ کا ذکر بابو شاہ دین صاحب نے ثناء اﷲ کے آنے کا ذکر کیا فرمایا کہ آخر لعنت لے کر چلا گیا اور جو منصوبہ وہ گھڑکے لایا تھا اس میں اسے کامیابی نہ ہوئی۔ہم نے اس کا ذکر اور جواب وغیرہ اس عربی کتاب میں کر دیا ہے۔اب جہلم سے واپس آکر بشرط فرصت اردو میں لکھیں گے۔۱ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء ۲ کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بوقتِ سیر مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔(ایڈیٹر) دعا اور اس کے آداب دعا بڑی عجیب چیز ہے مگر افسوس یہ ہے کہ نہ دعا کرانے والے آداب دعا سے واقف ہیں اور نہ اس زمانہ میں دعا کرنے والے ان طریقوں سے واقف، جو قبولیت دعا کے ہوتے ہیں۔بلکہ اصل تو یہ ہے کہ دعا کی حقیقت ہی سے ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخہ ۲۰؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۳۴ ۲ ایڈیٹر صاحب الحکم کو ’’۱۵؍ جنوری ۱۹۰۳ء‘‘ کی تاریخ لکھنے میں سہو ہوا ہے یا کاتب کی غلطی سے یہ تاریخ لکھی گئی ہے۔در اصل حضور علیہ السلام کی یہ تقریر جو حضور نے سیر کے دوران فرمائی کسی اور گذشتہ تاریخ کی ہے۔۱۵؍ جنوری ۱۹۰۳ء کی نہیں۔’’الحکم‘‘اور’’ البدر ‘‘ دونو سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ۸؍جنوری سے ۲۷؍جنوری ۱۹۰۳ء تک