ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 69

واپس جانا چاہتا ہے۔جس بات کو ہم بار بار لکھتے ہیں کہ ہم مباحثہ نہیں کرتے جیسے کہ ہم انجام آتھم میں اپنا عہد دنیا میں شائع کر چکے ہیں۔تو اب اس کا منشا ہے کہ ہم خدا کے اس عہد کو توڑدیویں۔یہ ہرگز نہ ہوگا اور پھر اس رقعہ میں کس قدر افترا سے کام لیا گیا ہے کیونکہ جب ہم اسے اجازت دیتے ہیں کہ ہر ایک گھنٹہ کے بعد وہ دو تین سطریں ہماری تقریر پر اپنے شبہات کی لکھ دیوے تو اس طرح سے خواہ اس کی ایک دن میں تیس سطور ہو جاویں ہم کب گریز کرتے ہیں اور خواہ ایک ہی پیشگوئی پر وہ ہم سے دس دن تک سنتا رہتا اور اپنے وساوس اسی طرز سے پیش کرتا رہتا۔اسے اختیار تھا۔پھر ایک دوسرا جھوٹ یہ بولا ہے کہ لکھتا ہے کہ آپ مجمع پسند نہیں کرتے۔بھلا ہم نے کب لکھا ہے کہ ہم مجمع پسند نہیں کرتے بلکہ ہم تو عام جلسہ چاہتے ہیں کہ تمام قادیان کے لوگ اور دوسرے بھی جس قدر ہوں جمع ہوں تاکہ ان لوگوں کی بے ایمانی کھلے کہ کس طرح یہ لوگوں کو فریب دے رہے ہیں۔اگر اسے حق کی طلب ہوتی تو اسے ہمارے شرائط ماننے میں کیا دیر تھی مگر یہ بےنصیب واپس جاتا نظر آتا ہے۔پھر حضور انور نے مولوی محمد احسن صاحب کو حکم دیا کہ آپ اس کا جواب لکھ دیں مجھے فرصت نہیں۔میں کتاب لکھ رہا ہوں۔یہ کہہ کر حضور تشریف لے گئے اور مولانا مولوی محمد احسن صاحب نے جو جواب اس رقعہ کا تحریر فرمایا اس کے بعد کوئی جواب ثناء اللہ صاحب کی طرف سے نہ آیا اور وہ دُم دبا کر قادیان سے چلے گئے۔۱ ۱۲؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز دوشنبہ(بوقتِ ظہر) اﷲ تعالیٰ کے راستے میں زمین دینے کا ایک طریق اس وقت ایک شخص نے حضرت اقدس سے عرض کی کہ میرے پاس کچھ زمین ہے۔مگر ایک عرصہ سے اس کی آبادی کی کوشش کرتا ہوں لیکن کوئی کامیابی نہیں ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۲۳، ۳۰ ؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۲