ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 70

ہوتی۔اس لئے اب ارادہ ہے کہ اسے خدا کے نام پر احمدیہ مشن کی خدمت میں وقف کردوں۔شاید اﷲ تعالیٰ اس میں آبادی کر دیوے اور وہ دین کی راہ میں کام آوے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کی نیت کا ثواب تو خدا تعالیٰ آپ کو دے گا لیکن آپ خود وہاں جا کر آبادی کریں اور اخراجات کاشت وغیرہ نکال کر پھر جو کچھ اس میں سے بچا کرے وہ اﷲ کے نام پر اس سلسلہ میں دے دیا کریں۔۱ ۱۳؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز سہ شنبہ(نماز فجر کے وقت) ابو سعید عرب صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ چونکہ جناب نے جمعرات کو روانہ ہونا ہے اور آدمی زیادہ ہوں گے اس لئے ریلوے کمروں کو ریزرو کروا لینے سے آرام ہوگا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہاں۔یہ امر مناسب ہے کہ تکلیف نہ ہو۔عرب صاحب نے تجویز کی کہ سیکنڈ کلاس کی نسبت میرا یہ خیال ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی اور احباب ملنے آویں یا ہمراہ بیٹھیں تو وہ بیٹھ نہ سکیں گے اور بعض وقت کوئی انگریز صاحب بھی آجاویں تو ان کو روکا نہیں جاتا۔اللہ اللہ خدا کے برگزیدوں کو دنیاوی کاروبار سے کس قدر بے خبری ہوتی ہے۔فرمایا۔ہم تو اس گاڑی میں بیٹھیں گے جس میں پاخانہ ہو۔عرب صاحب نے کہا کہ حضور سیکنڈ کلاس میں بھی جائے ضرور ہوتا ہے اور چونکہ آپ بڑے آدمی ہیں اور ایک فرقہ کے لیڈر ہیں جناب کو ضرور فسٹ کلاس یا سیکنڈ کلاس میں بیٹھنا چاہیے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جانے دو ہمیں تو اس پاخانہ والی گاڑی (انٹر میڈیٹ )میں بیٹھنے کی عادت ہے۔الٰہی جماعتوں میں ارتداد خاکسار ایڈیٹر نے مولوی جمال الدین صاحب سیّد والہ کی طرف سے عرض کی کہ ایک حافظ نے ان کو بلا کر بہت ناجائز ۱ البدر جلد ۲ نمبر ۴ مورخہ ۱۳؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۹