ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 67

خرچ کرسکتا ہوں۔اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیویں تو یہ ایسا طریق ہے کہ اس سے آپ کو فائدہ ہوگا۔ورنہ ہمارا اورآپ لوگوں کا آسمان پر مقدمہ ہے خود خدا تعالیٰ فیصلہ کرے گا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی۔سوچ کر دیکھ لو کہ یہ بہتر ہوگا کہ آپ بذریعہ تحریر جو سطر دو سطر سے زیادہ نہ ہوایک ایک گھنٹہ کے بعد اپنا شبہ پیش کرتے جائیں گے اور میں وہ وسوسہ دور کرتا جائوں گا۔ایسے ہی صدہا آدمی آتے ہیں اور وسوسہ دور کرا لیتے ہیں۔ایک بھلا مانس شریف آدمی ضرور اس بات کو پسند کرے گا۔اس کو اپنے وساوس دور کرانے ہیں اور کچھ غرض نہیں لیکن وہ لوگ جو خدا سے نہیں ڈرتے ان کی تو نیتیں ہی اور ہوتی ہیں۔میرزا غلام احمد (مہر) اور فرمایا کہ یہ طریق بہت امن کا ہے۔اگر یہ نہ کیا جاوے تو بدامنی اور بد نتیجہ کا اندیشہ ہے۔پھر فرمایا کہ ایک رئویا ابھی فجر کو میں نے ایک خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے۔اس کے ایک طرف کچھ اشتہار ہے اور دوسری طرف ہماری طرف سے لکھا ہوا ہے جس کا عنوان یہ ہے بَقِیَّۃُ الطَّاعُوْنِ۔اس کے بعد فجر کی نماز ادا ہوئی تو حضرت اقدس نے قلم دوات طلب فرمائی اور کہا کہ کچھ تھوڑا سا اور اس رقعہ پر لکھنا ہے۔اتنے میں مولوی ثناء اﷲ صاحب کے قاصد پھرآموجود ہوئے اور جواب طلب کیا۔حضرت نے فرمایا کہ ابھی لکھ کر دیا جاتا ہے۔پھر بقیہ حصہ آپ نے لکھ کر اپنے خدام کے حوالہ کیا کہ اس کی نقل کرکے روانہ کردو۔وہ حصہ رقعہ کا یہ ہے۔بالآخر اس غرض کے لئے اب آپ اگر شرافت اور ایمان رکھتے ہیں تو قادیان سے بغیر تصفیہ کے خالی نہ جاویں۔دو قسموں کا ذکر کرتا ہوں (۱) اوّل چونکہ میں انجام آتھم میں خد اسے قطعی عہد کر چکا