ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 66

کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا۔سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اوّل یہ اقرار کریں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے۔اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسٰیؑ پر یا حضرت موسٰی پر یا حضرت یو نسؑ پر عائد نہ ہوتا ہو اور حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔دوسری شرط یہ ہوگی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہ ہوں گے۔صرف آپ مختصر ایک سطر یا دوسطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جائے گا۔اعتراض کے لئے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں۔تیسری یہ شرط ہوگی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی آپ اعتراض پیش کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے۔چوروں کی طرح آگئے اور ہم ان دنوں میں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹہ سے زیادہ خرچ نہیں کرسکتے۔یاد رہے یہ ہرگز نہ ہوگا کہ عوام کالانعام کے روبرو آپ واعظ کی طرح ہم سے گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل منہ بند رکھنا ہوگا۔جیسے صُمٌّۢ بُكْمٌ۔یہ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جاوے۔اوّل صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں۔میں تین گھنٹہ تک اس کا جواب دے سکتا ہوں اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گاکہ اگر ابھی تسلّی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔آپ کا کام نہیں ہوگا کہ اس کو سناویں ہم خود پڑھ لیں گے۔مگر چاہیے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو۔اس طرز میں آپ کا کچھ حرج نہیں ہے کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں۔یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے۔میں بآواز بلند لوگوں کو سنادوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اﷲ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے اور اس کا یہ جواب ہے۔اس طرح تمام وساوس دور کر دیئے جاویں گے لیکن اگر چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقع دیا جاوے تو یہ ہرگز نہیں ہوگا۔۱۴؍جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں۔بعد میں ۱۵؍ جنوری ۱۹۰۳ء کو ایک مقدمہ پر جہلم جائوں گا۔سو اگرچہ بہت کم فرصتی ہے۔لیکن ۱۴؍جنوری تک تین گھنٹہ تک آپ کے لئے