ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 65

حضرت نے فرمایا کہ صبح کو دیا جائے گا۔قاصد نے پوچھا کہ میں آکر جواب لے جائوں یا آپ بذریعہ ڈاک روانہ کریں گے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔خواہ تم لے جائو خواہ ثناء اﷲ آکر لے جائے۔پھر آپ نے قاصد کا نام پوچھا۔اس نے کہا محمد صدیق۔۱ ۱۱؍جنوری ۱۹۰۳ء بروز یکشنبہ مولوی ثناء اﷲ کے رقعہ کا جواب فجر کی نماز کو جب حضرت اقدس تشریف لائے تو قبل از نماز آپ نے وہ رقعہ جو مولوی ثناء اﷲ صاحب کے رقعہ کے جواب میں تحریر فرمایاتھا۔احباب کو سنایا۔وہ رقعہ یہ تھا۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ از طرف عایذ باﷲ الصمد غلام احمد عافاہ اﷲ واید بخدمت مولوی ثناء اﷲ صاحب۔آپ کا رقعہ پہنچا۔اگر آپ لوگوں کی صدق دل سے یہ نیت ہو کہ اپنے شکوک و شبہات پیشگوئیوں کی نسبت یا ان کے ساتھ اور امور کی نسبت بھی جو دعویٰ سے تعلق رکھتے ہوں، رفع کراویں تو یہ آپ لوگوں کی خوش قسمتی ہوگی اور اگرچہ میں کئی سال ہوئے کہ اپنی کتاب انجام آتھم میں شائع کر چکا ہوں کہ میں اس گروہ مخالف سے ہرگز مباحثات نہ کروں گا کیونکہ اس کا نتیجہ بجز گندی گالیوں اور اوباشانہ کلمات سننے کے اور کچھ نہیں ہوا مگر میں ہمیشہ طالب حق کے شبہات دور کرنے کے لئے طیار ہوں۔اگر چہ آپ نے اب بھی اس رقعہ میں دعویٰ تو کر دیا ہے کہ میں طالب حق ہوں مگر مجھے تأمل ہے کہ اس دعوے پر آپ قائم رہ سکیں۔کیونکہ آپ لوگوں کی عادت ہے کہ ایک بات کو کشاں کشاں بے ہودہ اور اَور مباحثات کی طرف لے آتے ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ ۱ البدر جلد ۱نمبر ۱۲ مورخہ ۱۶؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۳