ملفوظات (جلد 4) — Page 57
ہو کر خدا کے حکم کو نہیں مانتا۔نفس کو تنبیہ کرنے کے واسطے ایسی ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور بہت سے وفادار کتّے بھی موجود ہیں مگر افسوس اس کے لئے ہے کہ جو کتّے جتنا مرتبہ بھی نہیںرکھتا تو بتلاوے کہ پھر وہ خدا سے کیا مانگتا ہے؟ انسان کو تو خدا نے وہ قویٰ عطا کئے ہیں کہ اور کسی مخلوق کو عطا نہیں کئے۔شر سے پرہیز کرنے میں تو بہائم بھی اس کے شریک ہیں۔بعض گھوڑوں کو دیکھا ہے کہ چابک آقا کے ہاتھ سے گر پڑی تو منہ سے اٹھا کر اسے دیتے ہیں اور اس کے کہنے سے لیٹتے ہیں اور بیٹھتے ہیں اور اٹھتے ہیں اور پوری اطاعت کرتے ہیں تو یہ انسان کا فخر نہیں ہوسکتا کہ چند گنے ہوئے گناہ ہاتھ پائوں وغیرہ دیگر اعضا کے جو ہیں ان سے بچا رہے۔جو لوگ ایسے گناہ کرتے ہیں وہ تو بہائم سیرت ہیں جیسے کتوں بلیوں کا کام ہے کہ ذرا برتن ننگا دیکھا تو منہ ڈال لیا اور کوئی کھانے کی شَے ننگی دیکھی تو کھا لی۔تو ایسے انسان کتّے بلّی کے سے ہی ہوتے ہیں انجام کار پکڑے جاتے ہیں۔جیل خانوں میں جاتے ہیں جا کر دیکھو تو ایسے مسلمانوں سے زندان بھرے ہوئے ہیں۔؎ حضرت انساں کہ حد مشترک را جامع است می تواند شد مسیحا می تواند شد خرے دنیا کےلئے کوشش حدّ ِاعتدال تک ہو تو اب یہ موقع ہے اور خدا تعالیٰ کی لہروں کے دن ہیں یعنی جیسے بعض زمانہ خد اکی رحمت کا ہوتا ہے کہ اس میں لوگ قوت پاتے ہیں ایسے ہی یہ وقت ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ بالکل دنیا کے کاروبار چھوڑ دیوے بلکہ ہمارا منشا یہ ہے کہ حدّ اعتدال تک کوشش کرے اور دنیا کو اس نیت سے کماوے کہ وہ دین کی خادم ہو مگر یہ ہرگز روا نہیں ہے کہ اس میں ایسا انہماک ہو جاوے کہ دین کا پہلو ہی بھول ہی جاوے نہ روزہ کی خبر ہے نہ نماز کی۔جیسے کہ آج کل لوگوں کی حالت دیکھی جاتی ہے۔مثال کے طور پر دلی کا جلسہ ہی اب دیکھ لو کہ جہاں کہتے ہیں کہ پندرہ لاکھ آدمی جمع ہوا ہے۔میراتصور تو یہی ہے کہ وہ سارے دنیا پرست ہیں۔حدیث میں آیا ہے کہ سب سے زیادہ خدا سے نفرت دلانے والے سلاطین ہی ہیں کیونکہ یہ مثل ایک بڑی دیوی کے ہوتے ہیں جس قدر ان کا