ملفوظات (جلد 4) — Page 58
قرب زیادہ ہوتا ہے۔اتنا ہی قلب سخت ہوتا ہے۔ہم کسی کو تجارت سے منع نہیں کرتے کہ وہ بالکل ترک کر دیوے مگر یہ کہتے ہیں کہ وہ ذرا سوچیں اور دیکھیں کہ ان کے باپ دادا کہاں ہیں؟ بڑے بڑے عزیز انسان کے ہوا کرتے ہیں اور کس طرح وہ ان کے ہاتھوں میں ہی اٹھ جایا کرتے ہیں اور موت کس طرح آپس میں تفرقہ ڈال دیتی ہے۔؎ سال دیگر را کہ می داند حساب یا کجا رفت آں کہ با ما بود پار اب طاعون کی بلا سروں پر ہے کہتے ہیں کہ اس کی میعاد ستّر ستّر برس ہوا کرتی ہے اور اس کے آگے کوئی حیلہ پیش نہیں جاتا سب فضول ہوا کرتے ہیں اور اسی لئے آئی ہے کہ خد اکے وجود کو منوا دیوے۔سو اس کا وجود برحق ہے اور خد اکی بلا سے سوائے خدا کے کوئی بچا نہیں سکتا۔سچی تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے راضی ہو۔جب شریر گھوڑے کی طرح انسان ہوتا ہے تو ماریں کھاتا ہے اور جو خاص لوگ ہیں وہ اشارہ سے چلتے ہیں جیسے سدھا ہوا گھوڑا اشارہ سے چلتا ہے ان کو وحی اور الہام ہوتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ وحی کے معنے اشارہ کے بھی لکھے ہیں۔مگر جب مار کھانے کا زمانہ گذرجاتا ہے تو پھر وحی کا زمانہ آتا ہے اور یہ بات ضروری ہے کہ یہ مرحلہ سہولت سے طے نہیں ہوتا۔کیونکہ تقویٰ ایسی شَے نہیں ہے جو کہ صرف منہ سے انسان کو حاصل ہو جاوے بلکہ یہ کہ شیطانی گناہ کا کوئی حصہ دار ہے۔اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ذرا سی شیرینی رکھ دیں تو بے شمار چیونٹیاں اس پر آجاتی ہیں۔یہی حال شیطانی گناہوں کا ہے اور اسی سے انسانی کمزوری کا حال معلوم ہوتا ہے۔اگر خدا چاہتا تو ایسی کمزوری نہ رکھتا۔ہر طاقت کا سرچشمہ خدا تعالیٰ ہے مگر خدا تعالیٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اس بات کا علم ہو کہ ہر ایک طاقت کا سرچشمہ خد اہی کی ذات ہے۔کسی نبی یا رسول کو یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اپنے پاس سے طاقت دے سکے اور یہی طاقت جب خدا کی طرف سے انسان کو ملتی ہے تو اس میں تبدیلی ہوتی ہے اس کے حاصل کرنے کے واسطے